• صارفین کی تعداد :
  • 727
  • 8/18/2013
  • تاريخ :

 مصر کے کشيدہ حالات

 مصر کے کشیدہ حالات

 مصر تاريخي اور جغرافيائي لحاظ سے دنيا کا ايک اہم ملک ہے اور موجودہ دور ميں مصر کے کشيدہ حالات نے دنيا بھر کے اہل فکر لوگوں کو پريشاني ميں مبتلا کر رکھا ہے - مصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مصر کے مختلف صوبوں ميں اخوان المسلمين کے ايک ہزار چار رہنماوں اور کارکنون کو گرفتار کرليا گيا ہے- يہ اعداد و شمار عبوري حکومت کي وزارت داخلہ نے دئے ہيں- عبوري حکومت نے ايک بيان ميں دعوي کيا ہےکہ اخوان  المسلمين کے ہتھيار بند کارکن سرکاري اداروں اور پوليس چوکيوں پرحملے کررہے ہيں- مصري وزارت داخلہ نے کہا کہ جن مقامات پر دھرنا ديا جارہا ہے انہيں خالي کروا ليا جائے گا- اس بيان کے مطابق سکيورٹي فورسس نے دسيوں بندوق اور پستول اور ايک ہزار سے زائد گوليان ضبط کي ہيں،ادھر مصر کے وزير اعظم نے مطالبہ کيا ہے کہ اخوان المسلمين کوکالعدم قرارديا جائے- واضح رہے مصر ميں گذشتہ روز ہونے والي جھڑپوں ميں ايک سو تہترافراد جاں بحق اور ايک ہزار سے زائد زخمي  ہوئے ہيں-

          جديد مصر کي ساٹھ سالہ تاريخ ميں ملک کي پہلي منتخب آئيني و جمہوري حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے فوجي قيادت اور صدر مرسي کے سياسي مخالفين کے درميان پيشگي ساز باز کي عيني شہادت ايک ايسي شخصيت کي جانب سے منظر عام پر آئي ہے جو خود معاملات ميں شريک رہي ہے لہٰذا اس کے بيان کو جھٹلانا ممکن نہيں- يہ پچھلے17سال سے امريکن يونيورسٹي قاہرہ کے شعبہ سياسيات سے وابستہ ڈاکٹر مونا مکارم عَبيد ہيں جو حسني مبارک کے دور ميں بھي پارليمينٹ کي رکن رہيں اور ڈاکٹر مرسي کے دور ميں بھي- مرسي دور ميں وہ دستور ساز کميٹي ميں بھي شامل رہيں اور دوسرے سيکولر و لبرل ارکان کي طرح اس کميٹي سے مرسي حکومت کے آخري دنوں ميں مستعفي ہوئيں- ڈاکٹر مونا مکارم، حسني مبارک کے بعد ملٹري کونسل کي عبوري حکومت ميں بھي مشير کے فرائض انجام ديتي رہيں- ڈاکٹر مونا کا تعلق مصر کي قبطي عيسائي کميونٹي سے ہے-تين جولائي کو ڈاکٹر مرسي کي حکومت کا جنرل عبدالفتاح السيسي کے ہاتھوں تختہ الٹے جانے کے تقريباً ايک ہفتے بعد 11جولائي کو مڈل ايسٹ انسٹي ٹيوٹ کے زير اہتمام ”‌مصر کا سياسي مستقبل“ کے موضوع پر ہونے والے سيمينار سے خطاب کے دوران اُن کي زبان سے ايک ايسا انکشاف ہوا جس سے يہ حقيقت پوري طرح کھل کر سامنے آ گئي ہے کہ مرسي حکومت کے خلاف کسي قابل لحاظ عوامي احتجاج کے آغاز سے پہلے ہي فوجي سربراہ نے مرسي کے مخالفين کے تعاون سے ان کي حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا ليا تھا- ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

مصر کے حالات انتہائي دردناک، رہبر انقلاب اسلامي

مصر، معزول صدر مرسي کي بحالي کےلئے مظاہرے