• صارفین کی تعداد :
  • 3375
  • 8/7/2013
  • تاريخ :

امامت کي بحث کب سے شروع ہوئي؟

بسم الله الرحمن الرحیم

ہم جانتے ہيں کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي رحلت کے بعد مسلمان دو گرہوں ميں تقسيم ہو گئے:

ايک گروہ کا يہ عقيدہ ہے کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنا جانشين مقرر نہيں فرمايا ہے ،اور يہ کام امت پر چھوڑ ديا ہے کہ وہ مل بيٹھ کر اپنے درميان ميں سے کسي ايک کو رہبر کے عنوان سے منتخب کريں -اس گروہ کو ”‌اہل سنت“کہتے ہيں-

دوسرا گروہ يہ عقيدہ رکھتا ہے کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا جانشين آپکے ہي مانند خطا و گناہ سے معصوم ہونا چاہئے اور بے پناہ علم کا حامل ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کي معنوي و مادي رہبر ي کي ذمہ داري سنبھال سکے اور اسلام کے اصولوں کي حفاظت کرتے ہو ئے انھيں بقا بخشے-

ان کا عقيدہ ہے کہ ان شرائط کے حامل جانشين کا انتخاب خدا کي طرف سے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے ذريعہ ہي ممکن ہے ،اور پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ وآلي وسلم نے يہ کام انجام ديا ہے اور حضرت علي عليہ السلام کو اپنا جانشين مقرر فرمايا ہے-اس گروہ کو ”‌اماميہ“يا”‌شيعہ“کہتے ہيں-

ان مختصر مباحث سے ہمارا مقصد يہ ہے کہ اس مسئلہ کے سلسلہ ميں عقلي،تاريخي اور قرآن وسنت پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي دلائل کي روشني ميں بحث و تحقيق کريں- ليکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے ہم چند نکات کي طرف اشارہ کر نا ضروري سمجھتے ہيں:

کيا يہ بحث اختلاف پيدا کرنے والي ہے ؟

جب امامت کي بحث چھڑتي ہے تو بعض لوگ فوراً يہ کہتے ہيں کہ آج کل ان باتوں کا زمانہ نہيں ہے!

آج مسلمانوں کے اتحاد ويکجہتي کا زمانہ ہے اور پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے جانشين کا مسئلہ پر گفتگو کرنا اختلاف و افتراق پيدا ہو نے کا سبب بن سکتا ہے!

آج ہميں اپنے مشترک دشمنوں کے بارے ميں سوچنا چاہئے ،جيسے:صہيونزم اور مشرق و مغرب کي استعماري طاقتيں -اس لئے ہميں اس اختلافي مسئلہ کو پس پشت ڈالنا چاہئے -ليکن يہ طرز فکر يقينا غلط ہے، کيو نکہ:( جاري ہے )

 

 

متعلقہ تحریریں:

امامت پر بحث

لفظ مولا اور آئمہ اکرام