• صارفین کی تعداد :
  • 718
  • 8/4/2013
  • تاريخ :

فلسطين اور يوم القدس

عالمی یوم القدس

يوم القدس اور مسلمان (حصّہ اوّل)

پي ايل او نے شروع ميں تو انقلابي نعروں کے ساتھ بيت المقدس کي آزادي اور فلسطين کي تمام سرزمينوں کي غاصب صہيونيوں سے آزادي کےلئے صدائے احتجاج بلند کي ليکن ياسرعرفات کے يہ افکار و نظريات بہت جلد سازش اور سازباز کا شکار ہوگئے اور وہ بھي دوسرے عرب سربراہوں کي طرح فلسطينيوں کي زبان بولنے کي بجائے امريکہ اور مغرب کي زبان بولنے لگے اور بالآخر صورتحال يہاں تک پہنچ گئي کہ فلسطينيوں کا ايک بڑا حلقہ ياسرعرفات کو فلسطيني کاز کا خائن قرار دينے لگا - ياسرعرفات ، پي ايل او اور الفتح تنظيم کي انہي سرگرميوں کے درميان اسلامي انتفاضہ کا آغاز ہوا اسّي کے آخري عشرے ميں مسئلہ فلسطين علاقائي مسئلے سے ايک ديني اور مذہبي مسئلے ميں تبديل ہوگيا - نئے نئے فلسطيني گروپ ميدان ميں آئے اور بالآخر حماس کي صورت ميں ايک فلسطيني گروہ  فلسطينيوں کي حقيقي آواز ميں بدل گيا -امام خميني (رح) ايران کے اسلامي انقلاب کي کاميابي سے پہلے ہي فلسطين کے مسئلے کو مسلمانوں کا اہم ترين مسئلہ گردانتے تھے آپ نے انقلاب کي کاميابي سے پہلے بھي فلسطين کے حوالے سے امت مسلمہ کي بيداري کے لئے کئي اقدامات انجام ديئے ايران کے اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد تہران ميں فوري طور پر اسرائيل کا سفارتخانہ ختم کرکے فلسطين کا سفارتخانہ قائم کيا گيا اور فلسطين کے مسئلے کے حل اور بيت المقدس کي آزادي کے لئے نئي انقلابي حکومت نے فلسطيني قوم کي ہر طرح کي اخلاقي ، سياسي اور سفارتي امداد کرنے کااعلان کيا اسي دوران امام خميني (رح) کي دور انديش قيادت نے فلسطين کے مسئلے کو عالمي اور تمام امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ قرار دينے کے لئے رمضان المبارک کے آخري جمعہ کو دنيا بھرميں فلسطيني مظلوموں کے ساتھ اظہار يکجہتي کے لئے يوم القدس منانے کا اعلان کيا

بيت المقدس کو آزاد کرانے کيلئے اسلامي جمہوريہ ايران کے باني حضرت امام خميني(رہ) نے جس حکمت عملي کے تحت ماہ مبارک رمضان کے جمعۃ الوداع کو عالمي يوم القدس منائے جانے کا اعلان فرمايا تھا اس کو عملي جامہ پہناتے ہوئے ايران کے غيور عوام نے ماضي کي مانند آج ايکبار پھر پورے ملک ميں وسيع پيمانے پر مظاہرے کئے اور بڑي بڑي ريلياں نکاليں- ايران کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں ميں کئے جانے والے مظاہروں ميں دارالحکومت تہران کا ملين مارچ اپني نوعيت کا بے مثال رہا اور يہاں لاکھوں روزہ دار نمازيوں نے بھاري پيمانے پر شرکت کي- عالمي يوم القدس کے وسيع پيمانے پر نکالے جانے والے جلوس اور مظاہروں کے شرکاء نے غاصب صيہوني حکومت اور اس کي حامي امريکي حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے- بلکہ يہ کہا جائے کہ پورے ايران کي فضا امريکا مردہ باد اور اسرائيل مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھي-  ( جاري ہے )

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

ايران کےسائنسي مقالوں کي اشاعت پر پابندي

شام کےمخالف گروہوں کے ساتھ سلامتي کونسل کے اراکين کا اجلاس