• صارفین کی تعداد :
  • 4273
  • 7/21/2013
  • تاريخ :

زندگي ميں مثالوں کي اہميت

زندگی میں مثالوں کی اہمیت

خدا وندمتعال نے اعلي عقلي مفاہيم کو مثال کے ذريعہ بيان فرمايا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہيم کو اپني عقل کے تناسب سے سمجھ سکيں - بنابرايں قرآني مثالوں کا فلسفہ اعلي اور گہرے مسائل کو سادہ اور لوگوں کے عقل وفہم کے مطابق بيان کرنا ہے -

مثل يعني حقائق علمي کو محسوس کي جانے والي چيزوں سے تشبيہ دينا ،اس  تشبيہ کي وجہ يہ ہے کہ بہت سے ايسے عقلي مسائل ہيں کہ اکثر لوگوں ميں سمجھنے اور درک کرنے کي طاقت اور صلاحيت نہيں پائي جاتي ہے - ليکن عادت کي وجہ سے محسوساتي اشياء کو بہتر اور آساني سے درک کرليتے ہيں -، عقلي بحثوں ميں توضيح وتفسير کے سلسلے ميں مثال کا کردار ناقابل انکار ہے اسي لئے حقائق کو واضح اور روشن اور انھيں ذھن سے نزديک کرنے ميں ہم ہميشہ مثال کے محتاج ہيں کيونکہ کبھي ايک مثال دقيق اور مقصود سے ہم آہنگ ہوتي ہے اور وہ وضاحت کے بارے ميں ايک کتاب کا کام کرتي ہے اور مشکل مطالب کو سب کے لئے عام فہم بنا ديتي ہے -

مثل کےخوبصورت اورعام فہم ہونے کي وجہ سے تمام تہذيبوں نے استقبال کيا ہے اور ہر ايک قوم کے نزديک قابل قبول ہے اور ہر قوم کي تہذيب کي طاقت کي علامت ہے - فارسي ادب  ميں بھي بارہا اس ادبي صنعت سے استفادہ کيا گيا ہے تاکہ مخاطبين پر اس کا دہرا اثر پڑے -

مثال کبھي ايک عمل ہے اور کردار کي زبان سے اسے  بيان کيا جاتا ہے اور عمل ميں اس کے معني پيدا ہوتے ہيں اور کبھي ايک لفظ ہے جو زبان پر جاري ہوتي ہے ،جيسے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اہلبيت عليہم السلام کي سيرت ميں ، کبھي  عملي مثالوں کو ديکھا جاتا ہے کہ فطري طور اس کا اثر زيادہ ہوتا ہے - بطور مثال ايک دن رسول خدا صلي اللہ عليہ آلہ وسلم اپنے اصحاب وانصار کے ساتھ کہيں جا رہے تھے کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فيصلہ کيا کہ ان چھوٹے گناہوں کي طرف اصحاب کو متوجہ کر ديں جن کے خطرات کي طرف لوگوں کي توجہ بہت کم ہوتي ہے ، آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ايک بے آب وگياہ اور خشک بيابان ميں اصحاب وانصار کو حکم ديا کہ تھوڑي سي لکڑي جمع کريں -  اصحاب نے عرض کي يا رسول اللہ اس بے آب وگياہ اور خشک بيابان ميں دور دور تک لکڑي کا کہيں بھي وجود نہيں ہے! آپ نے فرمايا کا تلاش کرو ، تھوڑي ہي مقدار ميں  ہي کيوں نہ ہو کافي ہے -اصحاب لکڑي کي تلاش ميں نکلے اور ہرايک نے تھوڑي دير کے بعد مختصر اور تھوڑي بہت مقدار ميں لکڑياں جمع کيں اور لے آيا ، آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حکم ديا کہ لکڑيوں کو ايک جگہ ڈال ديں ، جب ان تھوڑي بہت لکڑيوں کو ايک جگہ لا کر ڈال ديا گيا تو لکڑيوں کي ايک بڑا ڈھير دکھائي دينے لگا - اس کے بعد آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اس ميں آگ لگا دي ، آگ شعلہ ور ہوئي اور اس ميں شديد حرارت پيدا ہوگئي اور اور اصحاب شدت حرارت کي وجہ سے وہاں سے دور ہوگئے  اس وقت آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا کہ گناہ بھي ان لکڑيوں کي طرح سے اکھٹا ہوجاتے ہيں ! بنابرايں چھوٹے گناہوں سے پرہيزکريں -

جي ہاں چھوٹے چھوٹے گناہ بھي ان لکڑيوں کي طرح جمع ہوجاتے ہيں اور اچانک آگ کے دريا ميں تبديل  ہوجاتے ہيں ، گناہان صغيرہ کے بارے ميں سب سے بڑا خطرہ جے توجہي ہے جسے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے عملا اس مثال کے ذريعہ بيان فرمايا ہے- (جاري ہے )

 

بشکريہ اردو ريڈيو تھران


متعلقہ تحریریں:

قرآن سے انسيت كے مرتبے

قرآن سے محبت کے درجات