• صارفین کی تعداد :
  • 4743
  • 7/17/2013
  • تاريخ :

قرآن فصاحت و بلاغت کي عمدہ مثال

قرآن الکريم

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ اول)

انبياء کرام اور معجزے (حصّہ دوّم)

قرآن مجيد جس دور ميں نازل ہوا وہ فصاحت و بلاغت اورمنطق و حکمت کا دور تھا چنانچہ جب اسے فصيح وبليغ ادبيوں ' عالموں اور شاعروں کے سامنے پيش کيا گيا تو وہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ:

'' خدا کي قسم يہ محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا کلام نہيں ہے ''

قرآن مجيد ايسي فصيح وبليغ زبان ميں نازل ہوا جس کي نظير پيش کرنے سے انسان قاصر تھے،قاصر ہيں اور قاصر رہيں گے!مثلاًقرآن مجيد نے جب اپني فصاحت وبلاغت کا دعويٰ کيا تو عربوں نے انتہائي غورفکر کے بعد تين الفاظ پر اعتراض کيا کہ وہ عربي محاورے کے خلاف ہيں- يہ الفاظ کُبَّار،ہُذُوًااور عُجَاب تھے-معاملہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے سامنے پيش ہوا-آپ نے معترضين کے مشورے سے ايک بوڑھے شخص کو منصف بنايا-

جبب وہ شخص آيا اور بيٹھنے لگا توآپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا :'' ادھر بيٹھ جائيں ''- وہ اس طرف بيٹھنے لگا تو آپ نے فرمايا :'' اُدھر بيٹھ جائيں''-جب وہ اُدھر بيٹھنے لگا تو پھر اشارہ کرکے فرمايا :''اِدھر بيٹھ جائيں ''-اس پر اس شخص کو غصہ آ گيا اور اس نے کہا :

(( اءَنَا شَيْخ کُبَّار اءَتَتَّخِذُنِي ھُذُوًا ھٰذَا شَيئ عُجَاب ))

'' ميں نہايت بوڑھا ہوں - کيا آپ مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہيں؟يہ بڑي عجيب بات ہے ''-

يوں اس نے تينوں الفاظ تين جملوں ميں کہہ ڈالے-اس پر معترضين اپنا سامنہ لے کر رہ گئے-

ايک مصري عالم لکھتے ہيں کہ وہ ايک مجلس ميں اپنے جرمن مستشرق دوستوں کے ساتھ بيٹھے تھے -مستشرقين نےان سے پوچھا :کيا آپ يہ سمجھتے ہيں کہ قرآن جيسي فصيح وبليغ عربي ميں کبھي کسي نے گفتگو کي ہے نہ کوئي ايسي زبان لکھ سکا ہے -علامہ نے کہا :'ہاں ميرا ايمان ہے کہ قرآن جيسي فصيح و بليغ عربي ميں کسي نے کبھي گفتگو کي ہے نہ ايسي زبان لکھي ہے''-انھوں نے مثال مانگي تو علامہ نے ايک جملہ ديا کہ اس کا عربي ميں ترجمہ کريں:

''جہنم بہت وسيع ہے ''

جرمن مستشرقين سب عربي کے فاضل تھے ،انہوں نے بہت زور مارا- جہنم واسعة ،جہنم وسيعة جيسے جملے بنائے مگر بات نہ بني اورعاجز آ گئے تو علامہ طنطاوي نے کہا : ''لو اب سنو قرآن کيا کہتا ہے'':

(( يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّذِيْدٍ))

'' جس دن ہم دوزخ سے کہيں گے : کيا تو بھر گئي ؟ اوروہ کہے گي :کيا کچھ اور بھي ہے ؟''

اس پر جرمن مستشرقين اپني نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوے اور قرآن کے اعجاز بيان پر مارے حيرت کے اپني چھاتياں پيٹنے لگے-  ( جاري ہے )

 

بشکريہ صراط الہدي ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

قرآن کي حقانيت اور معجزات واضح ہيں

قرآني معارف كا ڈھانچہ اور نظام