• صارفین کی تعداد :
  • 2211
  • 4/13/2013
  • تاريخ :

رپورتاژ

رپورتاژ

 رپورتاژ فرانسيسي کا لفظ ہے -انگريزي زبان ميں اس کے لۓ رپورٹ  کا لفظ استعمال ہوتا ہے -اس صنف ميں لکھنےوالا نہ صرف کسي اہم واقعہ يا حالات ، کسي سفر کا حال، ميلے، ٹھيلے، حادثہ  يا کسي جنگ کے محاذ کي رپورٹ بيان کرتا ہے بلکہ وہ ان واقعات کي جزئيات و تفصيلات ميں اپنے نقطۂ نظر اور تخيّل کي آميزش بھي کرتا ہے يعني کسي حادثے ، مقام اور واقعہ کوديکھ کر جو مصنف کے دل و دماغ پرگزرتي ہے اسے بعينہ رقم کرديتا ہے(صداقت اور خلوض کي ضرورت) - رپوتاژ کاتعلق ماضي اور مستقبل کے بجاۓ حال سے ہوتا ہے -مصنّف چشم ديدواقعات و مشاہدات کو اپني داخلي کيفيات کےساتھ شامل کرکے پيش کرتا ہے -رپورتاژ کے مصنّف کي آنکھ کيمرے کي آنکھ کي مانند ہوتي ہے- ليکن کيمرے کي تصوير ميں مصنّف کي تصوير جيسا جذبہ ، خلوص ، جوش و شوق اور سوز و ساز نہيں ہوتا- مفہوم يہ ہے کہ رپورتاژ ايک ايسے پودے کي مانند ہے ،جس کي جڑوں کو صرف اور صرف سچائي ،خلوص اور اندروني جذبے کے پاني کي ضرورت ہوتي ہے -

*رپورتاژ :

 مختصر يوں کہا جاسکتا ہے کہ  يہ ايک ايسي صنف ہے جس ميں خارجيت اور داخليت کا ايک حسين امتزاج ہوتا ہے وہ ايک دوسرے سے شير و شکر  ہوتي ہيں اور دونوں ہي اس صنف کے معيار کا تعين کرنےکي ذمّہ دار ہوتي ہيں -

رپورتاژ صرف چشم ديد واقعات پرلکھاجاسکتا ہے -سنے سنانے واقعات پرلکھي گئي کوئي تخليق ،افسانہ ،ناول يا ڈرامہ تو ہوسکتي ہے - رپورتاژ نہيں -

    * رپورتاژ دورجديد کي پيداوار ہے - رپورتاژ اور صحافت کاچولي دامن کاساتھ ہے - برّصغير کي تقسيم کے وقت سکھوں نے مسلمانوں سے جوخون کي ہولي کھيلي - پاکستان داخل ہونے والي مسلمانوں کي گاڑياں کي گاڑياں تباہ کي گئيں - مسلمان عورتوں اوربچوں پرجو طرح طرح کے مظالم ڈھاۓ گئے  تو اس جامع اور ہمہ گير صنف نثر نے اپنے اندر ان ہنگامي اورخون آشام موضوعات کو سميٹنا شروع کرديا - اس وقت جورپورتاژ لکھے گئے ان ميں جمناداس کا " خداديکھتا ہے " شاہداحمد دہلوي کا " دہلي کي بپتا " اور تاجور سامري کا "جب بندھن ٹوٹے " مشہور ہيں -

جديد دور ميں رپورتاژ کو جن چيزوں نے ترقي و خوشحالي بخشي ،ان ميں زمانے کے انتشار،معاشي وسياسي کشمکش ، جنگ اور سيلاب کي تباہ کارياں،سپرپاورز کےمابين بڑھتي ہوئي جديد اسلحے کي دوڑ اور سٹاروار جيسے پروگرام بہت اہميت کے حامل ہيں-

رپورتاژ کاکينوس جنگ اورفسادات تک ہي محدود نہيں بلکہ ان کے علاوہ ادبي تقاريب ،تہذيبي جلسوں اورسير و سياحت پر بھي بڑے خوبصورت رپورتاژ لکھے گئے-ادبي اور تہذيبي جلسوں پر ياديں ( ظہير سجاد )، صبح ہوتي ہے ( کرشن چندر)، خزاں کے پھول ( عادل رشيد ) ، بمبئي سے بھوپال تک ( عصمت چغتائي ) مشہور ہيں - سير و سياحت پر جو رپورتژ سامنے آۓ ان ميں، اور زمين اور پانچ ستارے( خواجہ احمد عباس )، الف ليلي کے ديس ميں ( ظفر پيامي ) ، پاکستان ميں چند روز ( ظ انصاري ) اور  برسبيل لندن ( محمود نظامي ) قابل ذکر ہيں -

اس کے علاوہ اردو ميں رپورتاژ لکھنے والوں ميں حميد نظامي ، عنايت اللہ ، حميد اختر ،اے حميد ،فخر ہمايون ، مستنصر حسين تارڑاور ممتاز مفتي و غيرہ مشہور ہيں -


متعلقہ تحریریں:

اردو ادب آپ بيتي سے تہي دامن  نہيں