• صارفین کی تعداد :
  • 3569
  • 4/13/2013
  • تاريخ :

حضرت فاطمہ زہراء

حضرت فاطمہ زہراء

ان کے بارے ميں رسول اکرم (ص) فرماتے ہيں: خدا نے سب سے بڑي نعمت جو تمہيں عطا کي وہ يہ ہے کہ مجھ سا باپ علي (ع) جيسا شوہر اور حسن (ع) و حسين (ع) جيسے بيٹوں سے تمہيں نوازا ہے- جب قبر ميں ان سے فرشتے پوچھيں گے: تمہارا رسول کون؟ کہيں گي: ميرے والد- اور جب امامت کے بارے ميں سوال ہوگا تو کہيں گي: ميرے شوہر-

آپ کا طرز زندگي مکمل طور پر نمونہ ہے- عبادت کے لحاظ سے امت ميں بے نظير ہيں، عبادت ميں کھڑے رہنے کي وجہ سے آپ (س) کے پيروں پر ورم آ جاتا تھا-

رسول (ص) نے آپ سے يہ سوال کيا کہ عورت کے ليے بہترين کام کيا ہے؟ تو جواب ديا تھا: وہ کسي مرد کو نہ ديکھے اور کوئي مرد اسے نہ ديکھے- اس پر رسول (ص) نے اپني بيٹي کي  پيشاني کو بوسہ ديا-

باپ کے انتقال کے بعد کبھي آپ کو مسکراتے نہيں ديکھا گيا- صرف اس وقت تبسم کيا تھا جب آپ نے اس تابوت کو ديکھا جو آپ کي سفارش سے بنايا گيا تھا کہ اس سے آپ کا بدن نظر نہيں آ سکتا تھا- حضرت فاطمہ زہرا (س) نے والد کے بعد اپنے شوہر علي (ع) کے احقاق حق کے ليے بڑے کارنامے انجام ديے- کہا جا سکتا کہ آپ کي زندگي وفا کرتي تو کاميابي يقيني تھي-

حضرت علي کے ہمراہ چاليس دن تک انصار و مہاجرين کے گھر جاتي اور ان سے تعاون و مدد کا تقاضا کرتي تھيں وہ کہتے تھے:

اے دختر رسول (ص)! ہم اس شخص ---- ابوبکر کي بيعت کر چکے ہيں-

تمہيں يہ کيسے گوارا ہوا کہ رسول (ص) کي ميراث ان کے گھر سے نکال کر غير کے گھر ميں منتقل کر دي جائے؟

اے دختر رسول (ص) اگر آپ کے شوہر علي (ع)، ابوبکر سے پہلے ہمارے پاس آتے تو ہم ان کے ہاتھ پر بيعت کر ليتے!

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

حضرت فاطمہ (س) انتہائي صاحب عصمت و طہارت تھيں