• صارفین کی تعداد :
  • 6797
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

اسلامي انقلاب  کے  اسلامي بيداري پر پڑنے والے  اثرات پر دلائل

ایران کا پرچم

اسلامي انقلاب اور استکبار کے حيلے

امام خميني رح کے متعلق لوگوں کے خيالات

اسلامي انقلاب اور  اتحاد

ايران ميں عظيم اسلامي  انقلاب

جب  اسلامي انقلاب  کے معمار دنيا کي کمزور اقوام اور مسلمانوں کو جگا کر ان پر اثر انداز ہونے  کي کوششوں ميں مصروف تھے تو يہ سوال ہمارے ذہن ميں جنم ليتا کہ اس اثرگزاري کے دلائل کيا ہيں يا کن دلائل کي بنا پر اسلامي انقلاب  مسلمانوں پر اثرانداز ہو گا -  اس سوال کے بعض متوقع جوابات جو ديۓ جا سکتے ہيں وہ مندرجہ ذيل ہيں - 

1- ديني اور اسلامي لحاظ سے حضرت امام خميني رح کي شخصيت کے مسلمان قوم پر پڑنے والے اثرات کي مثال کم  ہي ملتي ہے -  حقيقت ميں  پندرھويں صدي کے بعد سے دنيا ميں ايسے اوصاف کا حامل کوئي بھي شخص سامنے نہيں آيا جو بين الاقوامي سطح پر اس طرح سے اثر انداز ہوا ہو -

2- حضرت امام خميني نے بين الاقوامي سطح پر قدرت کے معني اور مفہوم کو بدل کر رکھ ديا - ان سے پہلے قدرت کا مفہوم مادي وسائل کے لحاظ سے ليا جاتا تھا ليکن اسلامي انقلاب کي کاميابي اور امام خميني کے دنيا پر اثر انداز ہونے کے بعد قدرت کے معني اور مفہوم ماديت کي بجاۓ معنويت مثلا عقائد ، افکار کي پرورش اور اطلاع رساني  کے لحاظ سے ليا جانے لگا -

3- گذشتہ چھ يا سات صديوں ميں کوئي بھي ايسي  ديني اور علمي شخصيت نہيں ملتي ہے جو ملت کي رہنمائي کرے  حتي کہ اس کے مخالفين بھي اس کي مقبوليت کي تصديق کريں - درحقيقت ہم کہہ سکتے ہيں کہ حضرت امام خميني کے سياسي اور ديني قوانين آخري صدي ميں بين الاقوامي سطح  پر بےنظير تھے - 

4-   دنيا ميں نمودار ہونے والے گذشتہ تاريخي انقلابي ليڈروں کي زندگيوں کا مطالعہ کرنے سے يہ بات سامنے آتي ہے کہ وہ عام لوگوں ، کمزوروں اور دوسرے معاشرتي طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ  صميمي روابط برقرار کرنے ميں حضرت امام خميني رح جيسي استعداد نہيں رکھتے تھے - ان ميں دوسرے کسي بھي رہبر کي نسبت بہتر طور پر قرآني پيغامات کو عام لوگوں تک پہنچانے کي طاقت موجود تھي  اور  اس بات کا شمار انقلاب اسلامي ايران کي کاميابي کے بڑے رازوں ميں ہوتا ہے -

5- ان کي خود آرائي سے پاک   زندگي نے ان ميں کمزوروں اور مسلمان قوم کي رہنمائي کرنے کي صلاحيت کو اجاگر کيا -  حقيقت ميں ان کي زندگي مسلسل کسي بھي قسم کي خود آرائي سے پاک تھي - خواہ وہ ايک سادہ طالب علم تھے خواہ ايک بڑي تعداد کے مرجع تقليد -  انہوں نے قدرت حاصل کرنے کے بعد بھي تقوي اور اخلاق اسلامي کے اصولوں کو اپناۓ رکھا  اور ان کے اس اخلاق اور تقوي نے لوگوں پر بےحد اثرات چھوڑے اور اس اثر نے بےشمار لوگوں کو ان کي آواز پر لبيک کہنے  پر آمادہ کر ديا -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان