• صارفین کی تعداد :
  • 698
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

پاک ايران " امن پائپ لائن " منصوبہ

پاک ايران  امن پائپ لائن

امريکہ اور پاکستان کے درميان تعلقات کو کيا نام ديا جانا چاہيۓ اس بارے ميں مختلف سطح پر مختلف آراء موجود ہيں -  تاريخي تجربات سے يہ ثابت ہوا ہے کہ  امريکا  پاکستان کا ايک زباني کلامي اور مکار دوست ہے جو  ضرورت پڑنے پر دوستي کي راگ الاپنا شروع کر ديتا ہے اور جب مطلب نکل جاتا ہے تب  پاکستان کو نقصان پہنچانے ميں کوئي کسر نہيں اٹھا رکھتا - پاکستان اور امريکہ کے تعلقات کو  بعض لوگ  آقا اور غلام کے تعلقات کا نام بھي ديتے ہيں -  امريکہ کي طرف سے پاکستان  کو  جبرا دہشت گردي کي نام نہاد جنگ ميں دھکيل کر  پاکستاني رسوائي کي صورت ميں جو تحائف مل رہے ہيں اسے پاکستان برسوں ياد رکھے گا -

 پاکستان اس وقت تاريخ کے بدترين بحران سے گزر رہا ہے جہاں اسے دہشتگردي جيسے بھيانک  مسئلے کے ساتھ توانائي کا بحران بھي پريشان کيۓ ہوۓ ہے -  پاکستان کي جغرافيائي حيثيت کو اگر  ديکھا جاۓ تو پاکستان کے ہمسايہ ممالک ميں ايران ايک ايسا ملک ہے جو توانائي کي دولت سے مالا مال ہے اور خوش قسمتي کي بات يہ ہے کہ ايران  پاکستان کا ايک بااعتماد دوست بھي ہے - ايران نے پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے ليۓ  تہہ دل سے مدد کي پيشکش کي ہے اور  امن گيس پائپ لائن جيسے منصوبے کي صورت ميں اپني اس پيشکش کو عملي جامعہ بھي پہناتا دکھائي دے رہا ہے -   دوسري طرف پاکستان کا نام نہاد دوست امريکہ ايک بار پھر  پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ليۓ مشوروں سے لے دھمکيوں تک  ، ہر طرح کا حربہ استعمال  کر رہا ہے - ماضي ميں امريکا نے پاکستان کے ايٹمي پروگرام کي مخالفت کي، فرانس سے جوہري پلانٹ کا منصوبہ ختم کرايا، کنيڈا کو کينوپ منصوبے کے لئے بھاري پاني کي فراہمي سے روکا- چين سے نيوکليئر پاور پلانٹ کي مخالفت کي، سول جوہري ٹيکنالوجي دينے سے انکار کيا اور اب ايران گيس پائپ لائن منصوبے کي مخالفت کر رہا ہے اور پھر يہ کہنا کہ پاکستان کے ”‌دوست“ امريکا کو پاکستان ميں توانائي کے بحران کا احساس ہے ، ايک مذاق نہيں ہے تو اور کيا ہے؟

پاکستان کو اپني توانائي کي بڑھتي ضروريات کے ليۓ   امريکي دباۆ کو مسترد کرنا ہي ہو گا -  گيس  کي قلت کے باعث پاکستان کي صنعت تباہ ہو چکي ہے ملک ميں کئي کئي گھنٹے لوڈشيڈنگ ہو رہي ہے - ايران گيس پائپ لائن منصوبہ پاکستاني معيشت کے ليۓ بہت ہي ضروري ہے - خود پاکستاني مشير يہ کہتے ہيں کہ سستي گيس کا زمانہ گيا اور اب گيس کي قلت کي وجہ سے مہنگي گيس ملے گي- يہ بھي خبر آئي تھي کہ  بدين اور سوئي کے پلانٹ سے 2025 کے بعد سے گيس کي فراہمي بند ہو جائے گي لہٰذا ايران سے گيس کي درآمد کا منصوبہ پاکستاني عوام اور معيشت کے لئے انتہائي اہميت رکھتا ہے - ايٹمي توانائي کا حصول ايران کا حق ہے - مغربي ممالک اور  امريکہ  کے  پاس خطرناک ايٹمي ہتھيار ہيں جبکہ دوسري طرف  وہ ايران کو پرامن ايٹمي توانائي کے حصول سے بھي روک رہے ہيں - ايران کي حکومت اور عوام  يورپ اور امريکہ کي اس بدمعاشي کے سامنے ڈٹي ہوئي ہے  اور  وہ دن دور نہيں جب  دنيا ايران کے اس حق کو تسليم کر لے گي -  ايران کے خلاف پابنديوں کا بہانہ بنا کر امريکہ پورے خطے کو اقتصادي لحاظ سے پسماندہ رکھنا چاہتا ہے - امريکہ کي کوشش ہے کہ  پاکستان ، ايران اور دوسرے علاقائي ممالک ميں معاشي سرگرميوں کو محدود کرکے اپني گرتي  معيشت کو سہارا ديا جاۓ - ( جاري ہے )

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

قزاقستان کے درالحکومت ميں مذاکرات کا نيا دور