• صارفین کی تعداد :
  • 2338
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

شيخ اور حکيم نزاري قہستاني کي حکايت

شیخ سعدی کی شاعری

سعدي کے زمانے ميں مسلمانوں کے بے شمار مدرسے بلاد  اسلام ميں کھلے ہوئے تھے

شيخ سعدي اور علامہ ابوالفرج عبدالرحمن ابن جوزي

شيخ کو بچپن سے فقر اور درويشي کي طرف زيادہ ميلان تھا

شيخ کي شاعري کي شہرت اس کي زندگي ميں

اسي طرح ملتان سے جو کہ شيراز سے چودہ سو ميل ہے دو بار خان شہيد سلطان محمد قاآن نے شيخ کي شہرات سن کر اس کو وطن سے بلايا مگر وہ بڑھاپے کے سبب نہ آ سکا-

تبريز کے حمام ميں جو شيخ اور مشہور شاعر ہمام تبريزي کي جھوک ہوئي ہے وہ نہايت مشہور قصہ ہے- جب تک ہمام نے يہ نہ جانا کہ يہ شخص سعدي ہے تب تک اس سے چھيڑ چھاڑ کرتا رہا- ليکن جب معلوم ہوا کہ يہ سعدي شيرازي ہے فورا نہايت شرمندگي سے عذر معذرت کرکے اپنے مکان پر لے گيا اور جب تک شيخ تبريز ميں رہا کمال تعظيم اور ادب سے اس کي مہمان داري کي-

سرگورا وسلي نے کتاب مجالس کتاب مجالس عشاق سے ايک حکايت نقل کي ہے جس کا خلاصہ يہ ہے کہ حکيم نزاري قہستاني ( جو کہ خراسان کا ايک مشہور شاعر اور حکيمانہ مزاج کا آدمي تھا اور اسمعيلي مذہب رکھتا تھا) شيراز کے حمام ميں شيخ سے ايک اجنبي صورت ميں ملا- معلوم ہوا کہ يہ شخص خراسان کا رہنے والا ہے- شيخ نے پوچھا کہ سعدي کو خراسان ميں کوئي جانتا ہے؟ کہا اس کا کلام وہاں عموما زبان زد خلائق ہے اور پھر شيخ کي درخواست سے اس کے چند اشعار پڑھے جن کو سن کر شيخ محفوظ ہوا اور سمجھا کہ يہ شخص شعر کا عمدہ مذاق رکھتا ہے- آخر دونوں پر ايک دوسرے کي حقيقت کھل گئي- شيخ نزاري کو اپنے مکان پر لے گيا اور بہت دنوں اس کو جانے نہ ديا اور بہت خوشي سے خوب دل کھول کر اس کي مہمان داري کي حکيم نزاري نے وہاں سے رخصت ہوتے وقت اپنے نوکر سے کہا اگر ہمارا ميزبان کبھي خراسان آيا تو ہم اس کو ديکھائيں گے کہ مہمانوں کي تواضع اور مدارات کس طرح کيا کرتے ہيں- 

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان