• صارفین کی تعداد :
  • 1169
  • 4/11/2013
  • تاريخ :

 ايک ايس ام ايس کرنے کي سزا ميں شيعہ خاتون کو 8 کوڑے مارنے کا حکم

سعودیہ کے مشرقی علاقے

سعوديہ کے مشرقي علاقے ميں  ايک ايس ام ايس کرنے کي سزا ميں شيعہ خاتون کو 8 کوڑے مارنے کا حکم

سعودي عرب کے شيعہ نشين مشرقي علاقہ ميں شيعہ مذہب کي طرف دعوت دينے کے عنوان سے ايک ايس ايم ايس کرنے کے الزم ميں سعودي عدالت نے تيس سالہ خاتون کو 8 کوڑے مارنے کا حکم ديا ہے-

اہلبيت (ع) نيوز ايجنسي -ابنا- سعودي عرب کے شيعہ نشين مشرقي علاقہ ميں شيعہ مذہب کي طرف دعوت دينے کے عنوان سے ايک ايس ايم ايس کرنے کے الزم ميں عدالت نے تيس سالہ شيعہ خاتون کو 8 کوڑے مارنے کا حکم ديا ہے-

راصد خبر رساں ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ستمبر ميں ايک عورت کے شوہر نے عدالت ميں شکايت کي کہ ايک نامعلوم نمبر سے اس کي بيوي کو ايس ايم ايس آيا ہے جس ميں اسے شيعہ مذہب اختيار کرنے کي دعوت دي گئي ہے-

عدالت نے تحقيقات کے بعد صوبہ قطيف کے علاقے العواميہ ميں رہنے والي ايک شيعہ خاتون کو شيعہ مذہب کي طرف دعوت دينے کا ملزم ٹھہرا کر اسے سزا دينے کا فيصلہ کيا ہے چونکہ سعودي عرب ميں شيعت کي تبليغ کرنا قانوني جرم ہے- جبکہ اس شيعہ خاتون نے اس طرح کا کوئي ايس ايم ايس بھيجنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت ميں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا: عدالت کے بقول ميں نے صرف ايک ايس ايم ايس ايک نامعلوم نمبر پر ارسال کيا ہے اور يہ غلطي کسي سے بھي سر زد ہو سکتي ہے-

ليکن عدالت نے اس کے اعتراض پر عدم توجہ کرتے ہوئے اسے 8 کوڑے مارنے کا حکم ديا ہے-

واضح رہے کہ سعودي عرب کے مشرقي علاقوں قطيف اور احساء ميں ساکن شيعہ آبادي برسوں سے مختلف مذہبي اور سماجي امتياز کا شکار ہے-