• صارفین کی تعداد :
  • 3521
  • 3/28/2013
  • تاريخ :

قرآن  کريم ميں آزادي کي حدود

قرآن المجید

جہاں تک انسان کے نفساني اوصاف کے متعلق وصفي ( آزادي )  پر بحث کا تعلق ہے تو انسان کي شناخت کے علم کے حساب سے اس کے متعدد  اور مختلف طرح کے معني اور مفہوم سامنے آتے ہيں - انسان کي جہان کے متعلق جاننے کي خواہش   تقريبا ہر شخص ميں مختلف روپ ميں ہوتي ہے اور يہ چيز انسان کي جہان بيني کي طاقت پر اثر انداز ہوتي ہے -  ہر انسان کے ذہن ميں آزادي کا الگ سے مفہوم بيٹھا ہوتا ہے -  کوئي ايک خاص ماحول ميں خود کو آزاد تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا شخص اسي ماحول ميں خود کو غلام اور جبر ميں محسوس کر رہا ہوتا ہے - اسلامي نقطہ نظر کے لحاظ سے انسان کو جو آزادي ملتي ہے ، وہ مغربي دنيا ميں کہلانے والي آزادي سے بالکل مختلف ہے - يورپ اور امريکہ ميں انسان کو جو آزادي دي جاتي ہے اس کے انداز کچھ اور ہيں جو معاشرے ميں بہت ساري خرابياں پيدا کر رہے ہيں -

" آزادي " کبھي بھي مطلق اور نامحدود نہيں ہو سکتي ہے - جہان بيني الہي کا کہنا ہے کہ   اس دنيا کي ايک ابتدا ہے اور ايک دن آۓ گا جب يہ ختم ہو جاۓ گي اور انسان کے ليۓ وحي اور رسول آۓ اور انسان طبيعي ہونے کے ساتھ طبيعت سے بہت آگے  کي مخلوق ہے اور انسان ايک مسافر کي مانند ہے جس نے بہت سارے عوالم  کو پيچھے چھوڑ ديا ہے اور بہت سارے جہان اس نے ابھي سر کرنے ہيں  اور موت کے ساتھ وہ نابود نہيں ہو گا - (1)

اس سے يہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کسي بات پر مجبور بھي نہيں ہے مگر  دين الہي کے دائرے ميں اس کو حاصل ہونے والي آزادي اس کے ليۓ حيات بخش ہے - آزادي کي مختلف اقسام  ہيں جن ميں سے بعض کي وضاحت سے ہم  بعض قرآني آيات کي طرف اشارہ کريں گے -

1 - سوچ بچار اور غور و خوض کي  آزادي

ٹھيک انتخاب کي عمارت کے نيچے رہنے کا مقصد خدا کي ہدايت کو حاصل کرنا ہوتا ہے - قرآن مجيد ميں ارشاد باري تعالي ہے کہ

«كذلك يبين الله لكم الايات لعلكم تتفكرون؛[2]

ترجمہ : اس طرح اللہ اپني نشانياں تمہارے ليے کھول کر بيان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو -

قرآن کي بہت ساري دوسري آيات ميں بھي انسان کو سوچ بچار کرنے کي تلقين اور نصيحت کي گئي ہے - ان ميں سے بعض  : الف) آفاق، (ق، آية 6 و 7). ب) انفس، (اسراء، آية 41). ج) گذشتہ لوگوں کي تاريخ ، (طه، آية 128) وغيرہ وغيرہ -

2- سياسي آزادي

قرآن انسان کو اپنے اردگرد موجود سياسي نظام ميں دخل اندازي اور حصہ لينے کا حق ديتا ہے اور قرآن ميں انسان کو يہ حق ديا گيا ہے کہ وہ اپني مرضي سے اپنے امور کو تعين کرے  اور اسے اپني زندگي گزارنے کي آزادي ہے -

قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے کہ

«و شاورهم في الامر[3]»

اور معاملات ميں ان سے مشورہ کر ليا کريں -

 قرآن کي دوسري بہت ساري آيات ميں بھي اس بارے ميں ذکر ہوا ہے جيسے  (فتح،آية 10، و توبه، آية 6 و 85 و...) وغيرہ وغيرہ -

  ( جاري ہے )

حوالہ جات :

[1] . ر.ك: مطهري، مرتضي، گفتارهاي معنوي، قم، انتشارات صدار، ص 14.

[2] . بقره/ 219

[3] . آل عمران/ 159.

ترجمہ :  سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

مسلمانوں کو قرآن کي روشني ميں زندگي بسر کرني چاہيۓ