• صارفین کی تعداد :
  • 4103
  • 3/21/2013
  • تاريخ :

نماز ادا کرنے کا صحيح حق

نماز

نماز کي اصلاح  سے تمام امور کي درستگي

نماز کو دل سے ادا کرنا چاہيۓ

سچے دل سے نماز ادا کرنے والا شخص اس گواہي پر قائم رہتا ہے  اور اس پر ڈٹا رہتا ہے - نماز ، توحيد  اور ايک خدا کو مان کر وہ حقيقي معنوں ميں عملي طور پر توحيد پر بحث کا آغاز کرتا ہے -

توحيد کو وہ اپنے حسن  اخلاق اور اپنے قول و فعل سے واضح کرتا ہے -  بازار ميں ، اپنے روز مرہ کے کام کاج ميں ، دفتر ميں ، اپني تحريروں ميں ، اپني تقريروں ميں ، اپني تدريس ، اپني پڑھائي ، اپنے کھيل کود ،  اور معاشرے کے ديگر امور کي انجام دہي کے دوران وہ توحيد   پر سوچتا اور عمل کرتا ہے يعني زندگي کے تمام حصوں اور امور ميں اس پر توحيد کا رنگ غالب ہوتا ہے ،

«صِبْغَةَ اللَّهِ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَ نَحْنُ لَهُ عابِدُون‏ ؛

خدائي رنگ اختيار کرو، اللہ کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو سکتا ہے؟ اور ہم صرف اسي کے عبادت گزار ہيں- (بقره/138)

خدا تعالي سورہ معارج کي آيت ميں فرماتا ہے کہ

نماز گزار انسان کي خوبيوں ميں سے ايک اور خوبي جو ہے وہ  يہ ہے کہ وہ جو گواہي دے اس پر قائم رہتے ہيں -  ايسا نہيں ہے کہ گواہي ديں اور پھر مکر جائيں -

توحيد کي گواہي پر قائم رہنے سے کيا مراد ہے ؟

«وَ الَّذِينَ هُم بِشهََادَاتهِِمْ قَائمُون‏»

اس کا مطلب يہ ہے کہ ميں توحيد  کا پابند ہوں اور اس پر قائم ہوں ،  قائم رہنے اور کھڑے ہونے سے مراد يہ ہے کہ ميري نظر ميں توحيد واضح طور پر ظاہر ہو -  ميري زبان ميں توحيد نظر آۓ ، ميرے اخلاق اور رويے ميں ضروري ہے کہ توحيد نظر آۓ - ايسا نہ ہو کہ صرف ميري فکر ميں ايک محدود اور محصور توحيد کا عنصر شامل رہے -

 اس کے علاوہ بھي روز مرہ کي زندگي ميں نماز گزار جب کسي بات کي گواہي ديتا ہے تو اس پر قائم رہتا ہے - اگر اس نے کسي کے قتل کي گواہي دي تو وہ   سزاوار کو سزا ملنے تک اس پر قائم رہتا ہے اور اس کا اثر يہ نکلتا ہے کہ معاشرے ميں قانون کا بول بالا ہوتا ہے اور معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے -

ترجمہ : سيد اسداللہ اسلان

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان