• صارفین کی تعداد :
  • 4467
  • 2/25/2013
  • تاريخ :

کھانا کھانے ميں  مستحب و مکروہ باتيں

کھانا کھانے ميں  مستحب و مکروہ باتيں

اسلام ميں کھانا کھانے کے آداب کو چند حصوں ميں  تقسيم کيا جا سکتا ہے -

پہلا حصّہ : وہ باتيں جن کو کھانا کھانے کے دوران مدّنظر رکھا جانا چاہيۓ  اور وہ مندرجہ ذيل ہيں :

الف : اس بارے ميں سوچ بچار کرنا کہ انسان کي ضرورت کو پورا کرنے کے ليۓ کھانے والي اشياء  اس کائنات ميں کيسے پيدا ہوئيں ہيں  ؟  اور وہ کون سے عوامل ہيں جن کے باہمي عمل کے ذريعے يہ غذا ہمارے دسترخوان تک پہنچي  ہے اور جس کے  ذريعے اب ہم اپني بھوک مٹا سکنے کے قابل ہيں -

ب : جب بھي کوئي چيز کھائيں تو  ہميں  کھانے سے پہلے اس ذات کا نام لينا چاہيۓ کہ جس نے ان چيزوں کو انسان کے ليۓ پيدا کيا - يوں ہر قسم کا غذا کھاتے ہوۓ خدا کے نام کا تکرار کيا جانا چاہيۓ  اور کھاتے ہوۓ خدا کي ذات کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہيۓ -

ج :  کھانا نمک سے  شروع کرنا چاہيۓ مگر اس بات کا خيال رکھنا ضروري ہے کہ  نمک کے استعمال سے کسي خاص حالت ميں انساني  صحت کو نقصان نہ پہنچے  مثلا  ہائي بلڈ پريشر کے مريضوں کے ليۓ نمک کا استعمال نقصان دہ ہے  -

د: کھانے کے آغاز ميں ہلکي غذا  کھاني چاہيۓ -

ه : بہت گرم  حالت ميں خوراک  کو کھانے سے پرہيز کرنا چاہيۓ -

و: دائيں ہاتھ سے کھانا چاہيۓ -

ز:کھانے کے دوران چھوٹے  نوالے لينے چاہيۓ -

ح: خوراک کو اچھي طرح سے چبا چبا کر کھانا چاہيۓ -

ط: دسترخوان پر زيادہ دير تک بيٹھنے کي کوشش کرني چاہيۓ -

ي: روٹي کي قدر کرني چاہيۓ اور  اسے کھانے کے برتن کے نيچے رکھا جانا چاہيۓ -

ک : کھانے کے دوران جو بھي غذا کے ٹکڑے دسترخوان پر گريں انہيں استعمال کر لينا چاہيۓ - يہ اس حالت ميں ہے جب کھانا گھر پر کھايا جاۓ  اور وہ بھي ايسي صورت ميں جب تک غذا کے ٹکڑے  گندے نہ ہوۓ ہوں  ليکن اگر گھر سے باہر غذا  کھائي جاۓ تو  ايسي صورت ميں بہتر يہ ہو گا کہ  دسترخوان پر گرنے والے غذا کے ٹکڑوں کو کھا ليا جاۓ جبکہ  جو کچھ بھي دسترخوان سے نيچے گر جاۓ اسے جانوروں کو ڈال دينا چاہيۓ -  

ل: کھانے کے دوران   اس وقت کھانے سے ہاتھ روک دينا  چاہيۓ جب ابھي کچھ  بھوک باقي ہو يعني پيٹ کا کچھ حصہ خالي رکھ کر کھانا چاہيۓ -

( جاري ہے )

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

نظام اعصاب پر روزہ کے مفيد اثرات