• صارفین کی تعداد :
  • 4059
  • 2/19/2013
  • تاريخ :

لومڑی  نے ہر جگہ کھوج لگايا ليکن شير کا کہيں پتا  نہ چلا

ڈرپوک گیڈر

رنگيلا گيدڑ

ايک گيد‎‎‎ڑ پھندے ميں پھنس گيا

لومڑي بھي لوٹ آئي اور بولي:" ميں نے ہر جگہ کھوج لگايا ليکن شير کا کہيں پتا  نہ چلا- ہاں ايک ٹوٹا ہوا مٹي کا لوٹا اس ٹيلے پر پڑا ديکھا- جب ہوا چلتي ہے اور لوٹے کے سوراخ سے ٹکراتي ہے تو اس ميں سے آواز پيدا ہوتي ہے- کہيں ايسا نہيں کہ تمھيں اسي آواز پر شير کي آواز کا دھوکا ہوا؟"

ڈرپوک گيڈر سمجھ گيا کہ اس سے ايسي ہي غلط ہوئي ہے ليکن يہ سوچ کر کہ کہيں لومڑي کو اس کا علم نہ ہوجائے اس نے لومڑي سے پوچھا:" تم کس ٹيلے کي بات کر رہي ہو؟" لومڑي نے اشارہ کرتے ہوئے کہا "ميں اس بلند ٹيلے کے بارے ميں کہہ رہي ہوں-" عين اس وقت ہوا کا ايک تيز جھونکا آيا اور لوٹے کي آواز اور اونچي ہوگئي- گيڈر بولا " نہ نہ يہ نہيں- اسے تو ميں خود بھي جانتا ہوں- کہاں شير، کہاں لوٹا؟ شير کي آواز کسي اور طرف سے آرہي تھي- اب البتہ آواز نہيں آ رہي، شايد شير چلا گيا ہوگا-"

لومڑي نے گيڈر کو خداحافظ کہا اور چل دي- ڈرپوک گيڈر نے اپنے دل ميں کہا:" جاğ ذرا اس خبيث لوٹے کو تو ديکھوں-" وہ آہستہ آہستہ لوٹے کي طرف بڑھا اور اس نے ديکھا کہ واقعي ايک لوٹا ہوا لوٹا پڑا ہے اور جب ہوا اس کے اندر گردش کرتي ہے، آواز پيدا ہوتي ہے اور يہ ٹھيک وہي آواز ہے جو اس نے سني تھي اور اس سے ڈرا تھا- گيڈر نے لوٹے سے نفرت اور کينے کو اپنے دل ميں بٹھا ليا اور اس سے مخاطب ہوکر مخاطب ہوکر بولا:" اچھا تو مجھے ڈراتا ہے- مجھ پر لعنت اگر ميں تجھے کسي مصيبت ميں مبتلا نہ کروں- اے بدبخت، بے نوا تو ٹيلے پر پڑا فضول، آواز نکال نکال کر لوگوں کو ڈراتا ہے- ميں ابھي تجھے اٹھالے جاکر پاني ميں غرق کرتا ہوں-"

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان