• صارفین کی تعداد :
  • 591
  • 2/18/2013
  • تاريخ :

ہم بحرين کے انقلاب کي حمايت کرتے ہيں

سید حسن نصر اللہ

سيد حسن نصر اللہ:

 حملہ کيا تو نابود ہو جاو گے/ ہم بحرين کے انقلاب کي حمايت کرتے ہيں-

حزب اللہ کے جنرل سيکريٹري نے صہيوني حکمرانوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا: اگر لبنان کي طرف آنکھ اٹھا کر ديکھنے کي کوشش کي تو تمہارے ايئر پورٹس، بندرگاہوں اور بجلي کے کارخانوں کو نشانہ بنا کر پورے اسرائيل کو اندھيرے ميں غرق کر ديں گے-

اہلبيت (ع) نيوز ايجنسي -ابنا- حزب اللہ کے جنرل سيکريٹري سيد حسن نصراللہ نے ’’ رہبران شہداء‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ايک پروگرام ميں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم ان شہداء سے الہام حاصل کرتے ہيں، ان کي وصيتوں پر عمل کرتے ہيں اور پائيداري اور استقامت کا ثبوت ديتے ہيں اور ديتے رہيں گے- ان رہبران شہداء نے ہميشہ استقامت دکھائي اور دشمن کے مقابلہ ميں مقاومت کرنے کا درس ديا-

انہوں نے کہا: شہيد راغب حرب، شہيد عباس موسوي، شہيد عماد مغنيہ وہ رہبران شہداء ہيں جنہوں نے استقامت، پائيداري اور مقاومت سے کام ليا اور دشمن کے مقابلہ ميں پہاڑ بن کر کھڑے رہے-

حزب اللہ کے جنرل سيکريٹري نے کہا: ان رہبران شہداء کے مدرسہ ميں صرف استقامت اور پائيداري کا درس ملتا ہے انہوں نے اپنے دشمن کو خوب پہچانا اسرائيل اور صہيونيسٹ کے خطرے کو خوب درک کيا- اور اس خطرہ کا مقابلہ صرف مقاومت سے ہے- اسي وجہ سے شہيد امام موسي صدر جيسے رہبران شہداء نے ،مقاومت اور استقامت کي بنياد ڈالي، انہوں نے اپني جواني، اپني ساري زندگي اسي راہ ميں صرف کر دي اور آخر کار اسي راہ ميں جان بھي دے دي اور ہميں سيکھا ديا کہ اسي راستے پر چليں اس راستے کي نسبت وفادري کا ثبوت ديں-

سيد حسن نصر اللہ نے مزيد کہا: 30 سال سے ہم ايک پہاڑ کے مانند کھڑے ہيں اور دشمن کے وار کا بخوبي منہ توڑ جواب دے رہے ہيں يہ کوئي خواب نہيں ہے جو ہم ديکھ رہے ہيں حقيقت ہے- 30 سال سے لبنان کي استقامت پوري دنيا کے سامنے واضح و آشکار ہے- استقامت کے نتيجہ ميں مسلسل کاميابياں ہمارے قدم چوم رہي ہيں اور ياد رکھيے آخري کاميابي کا راستہ بہت لمبا ہے-

استقامت فلسطيني قوم کا شعار

حزب اللہ کے جنرل سيکريٹري نے کہا: اگر آج ہم فلسطين پر نگاہ کرتے ہيں تو ہميں معلوم ہوتا ہے کہ جس چيز نے فلسطين کو آج تک فلسطين بچا کر رکھا ہے وہ فلسطينوں کے مقاوت ہے اگر اسرائيل کو رسميت دينے والي امريکہ کي 1982 ميں پلاننگ کامياب ہو جاتي تو بغير کسي شک و شبہ کے آج فلسطين کے چپے چپے پر قبضہ ہو گيا ہوتا اور فلسطين کا نام و نشان مٹ گيا ہوتا-

استقامت نے ’’اسرائيل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو نابود کيا اور اميدوں کو زندہ کيا-

سيد حسن نصر اللہ نے تاکيد کي: استقامت نے ’’اسرائيل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو خاک ميں ملايا اور اميدوں کو زندہ کيا- فلسطين اور لبنان مقاومت کے ميدان ميں دل و جان کي طرح آپس ميں متحد ہيں لبنان فلسطين کي حمايت کرتا ہے تا کہ وہ اپني استقامت سے اپنے حقوق اور اپني زمين کو واپس لے سکے- جب لبناني اسرائيل کے مقابلہ ميں اٹھے اور اپنے محکم عزم و ارادہ سے شہيد ہوئے اور اپنے عزم و ارادہ سے انہوں نے تاريخ کو رقم کر ديا اور ان کي يہي چيز سبب بني کہ غزہ ميں بھي مقاومت کي لہر شروع ہو اور وہاں بھي انہيں کاميابي نصيب ہو- اہم بات يہ ہے کہ ملت فلسطين اپنے راستے کو جاري رکھيں اور ہم بھي اپني حمايت کو جاري رکھيں گے-

بحرين کے پر امن انقلاب کي حمايت کرتے ہيں

حزب اللہ کے جنرل سيکريٹري نے بحرين کي انقلابي تحريک کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم بحرين کي پرامن انقلابي تحريک کي حمايت کرتے ہيں اور بحرين کے عوام کو داد ديتے ہيں اور اميد رکھتے ہيں کہ اس ملک ميں حکومتي عہدہ دار آپسي گفتگو سے کسي مثبت نتيجے تک پہنچيں-

لبنان کي مقاومت ميں ايران اور شام کے کردار کو سراہا

انہوں نے اپني گفتگو کے دوسرے حصہ ميں ’’ لبنان کي تعمير نو ادارہ کے سربراہ‘‘ حسن شاطري کي شہادت کي مناسبت سے ان کے لواحقين کو تسليت عرض کرتے ہوئے کہا: ہم ان تمام افراد کا شکريہ ادا کرتے ہيں جو لبنان اور فلسطين کي ترقي ميں سہيم رہے ہيں خاص کر کے اسلامي جمہوريہ ايران اور شام کا شکريہ ادا کرتے ہيں، اور حسن شاطري کي شہادت کي مناسبت سے تسليت عرض کرتے ہيں-

حزب اللہ پر بعض تہمتوں کہ حزب اللہ کے افراد نے بلغارستان ميں صہيوني کشتي پر حملہ کيا کي ترديد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ پر تہمت لگا کر بعض عربي چينل يہ شوشہ پھيلا رہے ہيں کہ اب اسرائيل کا لبنان پر حملہ قطعي ہے اور انہوں نے ايک بڑي جنگ کي پيشن گوئي کي ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ يہ عربي چينل خود ہي اس خبر کے مخترع ہيں اسرائيل نے ابھي تک ايسا کچھ کہا نہيں- يہ خود عربي ميڈيا ہے جو اسرائيل کو لبنان پر حملہ کے ليے اکسا رہا ہے-

انہوں نے مزيد کہا: مجھے ان اتہامات کے بارے ميں کوئي بات نہيں کرنا ہے اس ليے کہ ہم مسئلہ کو پرامن طريقہ سے حل کر رہے ہيں- بعض نے بہت جلدي اس تہمت کو قبول کر ليا اور ہمارے خلاف فتوے صادر کرنے لگے اور ہميں ٹروريسٹوں کي ليسٹ ميں شامل کرنے لگے-

انہوں نے مزيد واضح کيا: ان کا بدترين اقدام تو يہ ہے کہ انہوں نے يہ اعلان کر ديا کہ اسرائيل اس تہمت کے نتيجے ميں لبنان پر حملہ کرے گا- ہميں اس بات پر افسوس ہے کہ يہ لوگ خود لبنان ميں رہ کر ايسي باتيں کرتے ہيں- ميں يہاں واضح کر دوں کہ پہلي بات تو يہ ہے کہ اسرائيل کو حملہ کے ليے کسي بہانے کي ضرورت نہيں ہے وہ تحقيق کا منتظر نہيں رہتا- 1982 ميں اسرائيل نے لندن ميں اسرائيلي سفير کے ٹرور ہونے پر ايک فلسطيني گروہ کو متہم کيا تھا اور اس کے بعد وہ کسي تحقيقات کا منتظر نہيں رہا-

لبنان کے ساتھ جنگ اسرائيل کے ليے مزاق نہيں ہے

حسن نصر اللہ نے کہا: اسرائيل جب بھي چاہے کوئي سا بہانہ بھي بنا سکتا ہے ليکن آج حالات بدل گئے ہيں اب کئي بار اسرائيل نے حزب اللہ کو متہم کيا ہے ليکن جنگ کرنے کي جرئت نہ کر سکا-

انہوں نے تاکيد کي: اسرائيل بہت دقيق حساب و کتاب رکھتا ہے وہ ہر ٹکراو ميں اپني يقيني کاميابي کي فکر کرتا ہے وہ معمولي تہمتوں پر جنگ نہيں کرے گا- ہميں اسرائيل کو اتنا ہلکا نہيں سمجھنا چاہيے-

انہوں نے کہا: دوسري بات جو مجھے عرض کرنا ہے وہ يہ ہے کہ ہم لبنانيوں کو يہ جان لينا چاہيے کہ سن 2000 کے بعد جو پوزيشن پيدا ہوئي ہے وہ يہ ہے کہ اسرائيل جب لبنان پر حملہ کي سوچتا ہے تو اسے ہزاروں باتوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے- گزشتہ تجربہ کو، اسرائيل کے سابقہ فوجي سرداروں کے مشورے، فضائي، دريائي اور زميني ٹارگٹوں کو اس طرح کے کئي موضوعات کو-

ہرگز اسرائيل کے ظلم کے سامنے خاموش نہيں ہوں گے

نصر اللہ نے کہا: جو باتيں ميں نے اسرائيل کے بارے ميں کہي ہيں وہ سب صحيح ہيں ليکن ميں پورے اطمينان سے اسرائيل کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر اسرائيل ايک بار پھر لبنان کي سرزمين پر قدم رکھنے کي کوشش کرے تو ہم ہر گز خاموش نہيں بيٹھيں گے-

اسرائيل کي تنصيبات کو نابود کرنے کے ليے چند توپوں کي ضرورت ہے-

جناب حسن نصر اللہ نے اسرائيل کو دھمکاتے ہوئے کہا: اسرائيل کے ايئر پورٹس، بندرگاہيں، اور بجلي کے پروجيکٹس سارے ہماري دسترس ميں ہيں- انہيں صرف چند توپوں کي ضرورت ہے تاکہ ہم اسرائيل کو اندھيرے ميں غرق کر ديں- بجلي کے پروجيکٹ جنہيں دوبارہ بحال کرنے ميں 6 مہينے ہوں گے- کيا اسے برداشت کريں گے؟- وہ جانتے ہيں کہ جو کچھ ميں اس سے پہلے کہتا رہا ہوں وہ کر کے دکھاتا رہا ہوں اسي وجہ سے وہ دن رات لگے ہوئے ہيں-

انہوں نے کہا: ہم اپنے عزيز شہدا کے پاک خون سے کہتے ہيں کہ آپ کے فرزند اور شاگرد قوي عزم اور محکم ارادہ کے ساتھ آپ کي وصيتوں پر عمل پيرا ہيں-