• صارفین کی تعداد :
  • 3369
  • 2/16/2013
  • تاريخ :

حضرت امام حسن عسکري کي امامت کا دور

حضرت امام حسن عسکري کي امامت کا دور

حضرت امام حسن عسکري کي  مجموعي عمر کا 29 سالہ دورانيہ تين ادوار ميں تقسيم کيا جاتا ہے -  پہلا دور بچپن کے وہ تيرہ سال ہيں جو انہوں نے  مدينہ ميں گزارے - دوسرا دور انہوں نے امامت سے قبل سامرا ميں گزارا -  تيسرا دور ان کي  امامت والے  6 سال ہيں -  ان چھ سالوں ميں حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات  اچھے نہ تھے  - اس وقت وہاں پر خليفہ ہارون کي تقيليد کرنے والے  اپني ظاہري طاقت کا مظاہرہ کرتے  مگر امام ہميشہ باطل کے مقابلے کے ليۓ ميدان عمل ميں کارفرما رہے -  اپني امامت کے چھ سالوں ميں سے تين سال امام عليہ السلام  قيد ميں رہے - قيد خانے کے انـچارج نے دو ظالم غلاموں  کو مقرر کر رکھا تھا کہ  آنحضرت  عليہ السلام کو  آزار پہنچائيں   ليکن جب ان دو غلاموں نے امام عليہ السلام کے حسن سلوک اور سيرت کو  نزديک سے ديکھا تو وہ امام کے  گرويدہ ہو گۓ - جب ان غلاموں سے امام حسن عسکري کا حال پوچھا جاتا تو وہ بتاتے کہ يہ قيدي  دن کو روزہ رکھتا ہے اور شب بھر  اپنے معبود کي عبادت کرنے ميں مصروف رہتا ہے  اور کسي سے بھي بات چيت نہيں کرتا ہے- عباسي خاندان کا ايک مغرور وزير بنام عبيداللہ  خاقان جب بھي ملاقات کے ليۓ امام کے سامنے  آتا تو وہ احترام کے طور پر اپني جگہ سے کھڑا ہو جايا کرتا اور  امام حسن عسکري کو اپني جگہ پر بٹھايا کرتا تھا -  وہ ہميشہ يہ کہتا تھا کہ سامرہ  ميں کسي کو بھي ميں نے ان جيسا نہيں پايا ہے -  وہ ( امام حسن عسکري )  اس دور کے  زاہد ترين انسان ہيں -

عبيداللہ  خاقان کا بيٹا کہا کرتا کہ ميں لوگوں سے ہميشہ امام حسن عسکري کے  بارے ميں پوچھتا رہتا تھا - مجھے ہميشہ اس بات کا احساس ہوتا کہ لوگوں کے دلوں ميں حضرت امام حسن عسکري کے ليۓ احترام اور محبت پا‏ئي جاتي  تھي  - امام حسن عسکري  اپنے خاص شيعوں سے ملا کرتے تھے مگر پھر بھي  عباسي  خليفہ اپني حکومت کو تحفظ دينے کے ليۓ زيادہ تر ان پر نظر رکھتا اور انہوں قيد ميں رکھ کر عام لوگوں سے ملاقات سے روک ديتا -  ( جاري ہے )

شعبۂ تحرير و  پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

امام حسن عسکري عليہ السلام کي زندگي کا مختصر جائزہ