• صارفین کی تعداد :
  • 527
  • 2/10/2013
  • تاريخ :

عشرہ فجر اور ايران کا اسلامي انقلاب

عشرہ فجر اور ايران کا اسلامي انقلاب

 اسلامي انقلاب  کي تاريخ ميں عشرہ فجر کي اہميت  

اسلامي انقلاب کي تاريخي کاميابي سے  آنے والي نسلوں کو آگاہ کرنے کے ليۓ ہر سال  عشرہ فجر کا اہتمام کيا جاتا ہے-  ان دس  ايام ميں انقلاب اسلامي کي جدوجہد کے نتيجہ ميں قربان ہونے والے عظيم لوگوں کي جدوجہد کو خراج تحسين پيش کرنے کے علاوہ  بہت ساري تقاريب کا اہتمام کيا جاتا ہے  اور نئي نسل کو ان واقعات سے آگاہ کيا جاتا ہے جو آج سے پينتيس  برس قبل  سن 1979  ء  ميں  رونما ہوۓ تھے - ان ايام کا پہلا دن 31 جنوري سے شروع ہوتا ہے - 12 بھمن  کو اسلامي انقلاب کے باني حضرت امام خميني رحمتہ اللہ عليہ  15 برس کي جلاوطني کے بعد  اپنے پيارے وطن ايران تشريف لاۓ تھے -   جب  حضرت امام خميني رحمتہ اللہ عليہ نے ايراني سرزمين پر قدم رکھا  ، اس وقت ان کے استقبال کے ليۓ ان کے لاتعداد شيدائي  تھران کے ايئرپورٹ پر جمع تھے جہاں پر انہوں نے اپنے  محبوب رہنما کا استقبال نہايت ہي والہانہ انداز ميں کيا -  کہا يہ جاتا ہے کہ جتني بڑي تعداد ميں لوگ حضرت امام خميني رحمتہ اللہ عليہ کے استقبال کے ليۓ جمع تھے اس کي شايد ہي تاريخ ميں کوئي مثال ملتي ہو - حضرت امام خميني (رہ) کي ايران آمد کو دس روز گزرنے کے بعد ايران کا شاندار اسلامي انقلاب 22 بہمن 1357 ء ھجري شمسي مطابق 10 فروري 1979 ء کو کاميابي سے ھمکنار ہوا، اسي وجہ سے 12 بہمن يعني حضرت امام خميني (رہ) کي ايران واپسي سے لے کر 22 بہمن تک کے ايام کو عشرۂ فجر کا نام ديا گيا ھے اور ھر سال ان ايام ميں جشن اور خصوصي تقاريب کا انعقاد ہوتا ہے-

ايران کے اسلامي انقلاب کے خلاف يورپ اور امريکہ نے ايڑھي چوٹي کا زور لگايا تاکہ  انقلابي حکومت کے زير سايہ  اسلامي ايران کو سرنگوں کر سکے -  ايران کے ہمسايہ ملک عراق ميں يورپي ممالک اور  امريکہ نے  صدام حسين جيسے آمر کي  بےجا حمايت کي اور اسے ايران کے خلاف استعمال کيا -  ايران کے خلاف جنگ مسلط کر دي گئي اور اسے مختلف طرح کي معاشي پريشانيوں سے دوچار کيا گيا مگر ايران کي بہادر اور   محب وطن عوام نے  اپنے ملک کا دفاع بھي کيا اور ثابت قدمي کا مظاہرہ کرتے ہوۓ   ايران کے دشمنوں پر يہ واضح کر ديا کہ ايراني قوم کسي بھي طوفان سے گھبرانے والي نہيں اور آزمائش کي ہر گھڑي ميں اپنے انقلابي ليڈروں کے شانہ بشانہ کھڑي ہے -

اسلامي انقلاب کے  اثرات نہ صرف ايران پر مرتب ہوۓ بلکہ خطے کے ممالک بھي اس سے مستفيد ہو ۓ اور ہو رہے ہيں - باني انقلاب اسلامي حضرت امام خميني رح نے ملت ايران کے اندر جو اسلامي بيداري پيدا کي تھي اس کا دائرہ ايران کي سرحدوں تک محدود نہيں رہا ہے بلکہ ساري دنيا ميں اس کي صدائےبازگشت سنائي دے رہي ہے - خاص طور پر شمالي افريقہ اور مشرق وسطي کے ممالک کے لوگوں کے لۓ ايران کا اسلامي انقلاب ايک نمونۂ عمل کي حيثيت اختيار کرچکا ہے اور يہ حضرت امام خميني رح کي تعليمات کا ہي نتيجہ ہے کہ اس علاقے ميں اب تک چار ڈکٹيٹر سرنگون ہوچکے ہيں اور بعض اپني سرنگوني کے خوف ميں مبتلاء اپني باري کا انتظار کر رہے ہيں -  وہ دن دور نہيں ہے جب  دنيا ميں آمريت کا  خاتمہ ہو جاۓ گا ، جب  يورپ اور امريکہ کي خطے ميں اجارہ داري ختم ہو جاۓ گي اور  جب خطے کے ممالک آزادانہ طور پر پرامن فضا  ميں رہنے کے قابل ہو جائيں گے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان