• صارفین کی تعداد :
  • 1929
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

ابن الوقت کا ايک بڑا عيب

ابن الوقت

نذير احمد کے قصے

توبتہ النصوح

ابن الوقت کا ايک بڑا عيب  جو ان کے اکثر ناولوں ميں ہے يہ ہے کہ  ان کے کردار بولتے بہت ہيں - وہ باتيں کم کرتے ہيں ، تقريريں زيادہ کرتے ہيں - ان کے کردار کي طويل تقريروں کو پڑھ کر يہ راز آشکار ہو جاتا ہے کہ مصنف اپنے عقائد کي تبليغ کے ليۓ مضطرب ہے -

نذير احمد کے تين اور قصے بھي ہيں - 1-  محصنات يا فسانہ مبتلا  2-  ايامي    3- روياۓ صادقہ -

"  ايامي " ميں ہندوستاني بيوگان کي کمپرسي اور بدحالي کا نقشہ ہے - اس قصے کے ضمن ميں مصنف نے يہ تلقين کي ہے کہ بيوہ کا نکاح متعدد وجوہ سے بےحد ضروري ہے - اس کا اہم زنانہ کردار آزادي بيگم ہے جو نذير احمد کے نسواني کرداروں ميں بڑے امتياز کي مالک ہے - اس کے ذريعے  ايک بيوہ کي ذہني کشمکش کي نہايت کامياب عکاسي کي گئي ہے اور يہ اردو ميں نفسياتي تجزيہ  کي اولين کوششوں ميں سے ہے -اس قصے ميں بھي وہي عيب نماياں ہے کہ اس کے کردار  خواہ مخواہ طويل تقريريں کرتے سنائي ديتے ہيں - خصوصا ايسے وقت ميں جب موقع مختصر بات يا مکالمے کا ہوتا ہے - باايں ہمہ اس قصے ميں زندگي  اور سچائي دونوں کے عناصر پاۓ جاتے ہيں - اگرچہ پلاٹ کي تعمير کي طرف توجہ کچھ زيادہ نہيں کي گئي -

 " روياۓ صادقہ " ميں دينداري ، خدا پرستي ، اوہام باطلہ کي ترديد ، تعليم جديد کي خرابياں  اور علي گڑھ کالج کي تعليم و تربيت کا حال اور اس کے نقائص کا بيان کرنا مقصود ہے - اس ميں صادقہ کي زباني روحاني پيغام پہنچايا گيا ہے اور سيد صادق کي مادہ پرستانہ ذہنيت اور تعليم جديد سے متاثر ذہن و دماغ کي اصلاح کي کوشش کي گئي ہے مگر انصاف يہ ہے کہ يہ سب مضامين اور خيالات ناول يا قصے کي بجاۓ ايک عام مدلل رسالے يا کتاب کي صورت ميں ظاہر کر ديۓ جاتے  تو مصنف کو اپنے  مقصد ميں بڑي کاميابي ہوتي - يہ صحيح ہے کہ اس ميں بہت کم باتيں  ايسي ہيں جو دنيا ميں نہ ہوتي ہوں يا جديد اسلامي سوسائٹي ميں نہ پائي جاتي ہوں مگر شايد رسالہ يا مقالہ قارئين کو متاثر  کرنے کے ليۓ کافي بلکہ زيادہ موزوں ہوتا -

نذير احمد کے ناولوں کي اہميت  سے انکار نہيں کيا جا سکتا کہ ان کے ذريعے ہندوستاني مسلمانوں کي معاشرت کے ايک اہم دور کي تصوير ہمارے سامنے  آتي  ہے - ان ناولوں ميں اس عہد  کي ذہنيت  ، سماجي  تصورات اور معاشرتي  نظريات کے بہترين مرقعے دستياب ہوتے ہيں اور ان کي وہي قدر و قيمت ہے جو اٹھارہويں انيسويں صدي کے بعض انگريزي قصوں کي ہے جن ميں ڈکنز تھيکر  اور ہارڈي کے احتجاجي قصے اور مذھبي افسانے شامل ہيں -

يہ ناول معاشرتي قصے ہيں اور ظاہر ہے کہ معاشرتي قصے ايک لحاظ سے حقيقي قصوں کي صف ميں آتے ہيں - اس ليۓمعاشرتي قصے اپني ذات ميں اعلي رومان بننے کي صلاحيت نہيں رکھتے - ان کي  تو زندگي کي ہوبہو عکاسي ہوني چاہيۓ - ان ميں ترجماني اور تعبير و توجيہ بھي شايد گوارا نہيں ہو سکتي - بےعيب عکاسي ہي  ان کا نصب العين ہے اور يہي ہونا چاہيۓ  -

نذير احمد کے قصوں ميں باوجوديکہ مرد بھي ہيں اور عورتيں بھي مگر ان کي زندگي ميں عشق کا تصرف مطلق نہيں دکھايا گيا-

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان