• صارفین کی تعداد :
  • 1605
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

توبتہ النصوح

توبتہ النصوح

نذير احمد کے قصے

" توبتہ النصوح" ميں نذير احمد نے انساني فطرت (مردوں کي عورتوں کي نہيں) سے واقفيت کا ايک غير فاني ثبوت پيش کيا ہے- مصنف کو خود تو سب سے زيادہ نصوح کے کردار سے دلچسپي ہے مگر حق يہ ہے کہ ان کے قلم سے دانستہ يا نادانستہ ايک اور سيرت کي ايسي عمدہ اور مکمل تصوير کھينچ گئي ہے کہ ہم اسے "ابن الوقت" کے بعد شايد سب سے عمدہ مردانہ کردار قرار دے سکتے ہيں-

ابن الوقت

ابن الوقت ميں برابري کا ادعا پايا جاتا ہے اور يہ وہ جرم ہے جسے اس وقت کا انگريز کسي طور گوارا  نہيں کر سکتا - نتيجہ يہ کہ " ابن الوقت " بيچارہ ازيں سوراندہ و ازاں سو درماندہ کہيں کا نہيں رہتا - بس يہي  لب لباب ہے اس طويل کہاني کا جسے " ابن الوقت "  ميں مصنف نے پھيلا کر بيان کيا ہے اور غرض اس کہاني سے اس امر کي تلقين  کي ہے  کہ غيروں  کي معاشرت اختيار کرنے  پر بھي کوئي شخص غيروں کي نظر ميں اپنا نہيں بن سکتا بلکہ غير بھي ان ہي لوگوں کي قدر کرتے ہيں جو اپنے خيالات ميں پکے اور اپني وضع کے پابند ہوں -

خيال کيا گيا کہ  " ابن الوقت " کے لباس ميں نذير احمد نے سرسيد  پر چوٹ کي ہے اور وجہ يہ بتائي  گئي ہے کہ شايد نذير احمد نے سرسيد کے عروج اور قبول عام کے خلاف کسي پوشيدہ جذبہ رقابت سے مغلوب ہو کر يہ کتاب لکھ کر اپنے دل کي بھڑکاس نکالي ہے مگر يہ سب کچھ قياس ہي قياس ہے کيونکہ نذير احمد سيد صاحب کے نہايت مداح تھے - اس ليۓ اختلافات کے باوجود سيد صاحب کے خلاف کچھ لکھنا قرين قياس نہيں - اس کے علاوہ کوئي قطعي دستاويزي ثبوت بھي اس بدگماني کے حق ميں موجود نہيں -

ہماري راۓ ميں  " ابن الوقت "  سر سيد کي تصوير نہيں بلکہ انيسويں صدي کے آخري نصف کے عام تعليم يافتہ نوجوان کي تصوير ہے - اس سلسلے ميں يہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ سرسيد سے ان کے رفقا کي کشمکش کے افسانے اس بےجا عقيدت کا نتيجہ ہيں جو عموما کسي محبوب شخصيت سے پيدا  ہو جايا کرتي ہيں - اور جس کے ماتحت معمولي اور ديانتدارانہ اختلاف بھي عقيدت مندوں کو گوارا نہيں  ہوا کرتا - ہم ديکھتے ہيں کہ  سر سيد کي راۓ اور تصورات سے تقريبا ہر اختلاف

ابن الوقت اس کہاني کا سب سے بڑا کردار ہے - اس کي تعمير ميں نذير احمد نے بڑي محنت اور کاريگري کا ثبوت پيش کيا ہے - اس کے خيالات ميں جو تبديلي  دکھائي ہے اس ميں بڑي بدريج کو مدنظر رکھا گيا ہے - يہ امر بھي قابل توجہ ہے کہ مصنف " ابن الوقت "  کي  جن فطري صلاحتوں کو بعد ميں تفصيل سے اجاگر کرتا ہے  ان  کے آثار  ( ہونہار  پروا کے چکنے چکنے پات ) ابتدائي عمر ميں بھي دکھاتا ہے - وہ آغاز کار ہي سے ذوق جستجو سے متصف ثابت کيا گيا ہے - تاريخ اور آثار قديمہ کي تحقيق کا شائق اور دلدادہ ہے - حالات کے مطابق بدلنے اور نۓ خيالات اور رحجانات سے اثر پذير ہونے کي اس ميں خاص صلاحيت پائي جاتي ہے - تعليم کے زمانے ميں ہي اس کا يہ حال ہے کہ  " جب کوئي نئي کتاب جماعت ميں شروع ہوتي ہے - اس کا پہلا سوال يہ ہوتا ہے کہ اس کا مصنف کون تھا - کہاں کا رہنے والا تھا - کس سے اس نے پڑھا - اس کے معاصر کون تھے ؟  اس کي وقائع عمري ميں کون کون سي بات قابل يادگار ہے ؟

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان