• صارفین کی تعداد :
  • 1438
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

"شعر العجم " تنقيد عالي کا بہتر سے بہتر نمونہ ہے

شعر العجم

سوانح مولانا روم

شبلي کي سوانح نگاري کي خصوصيات

شبلي کا اسلوب بيان

شبلي کے اسلوب بيان کا ايک وصف بے ساختگي ہے

مہدي حسن کي راۓ ميں "  شعر العجم " تنقيد عالي کا بہتر سے بہتر نمونہ  ہے " بلکہ انہيں اصرار ہے کہ " صرف اردو لٹريچر ميں نہيں بلکہ مشرق کي کسي زبان ميں اس پايہ کي  تصنيف موجود نہيں  "  اور "  يہ دنيا کي سب سے  شيريں زبان کے جذباتي لٹريچر کا ايک خوبصورت مرقع ہے - "

" شعر العجم "ميں شبلي نے مغربي  اصولوں سے بھي فائدہ اٹھايا ہے مگر اس کي ساري وضع قطع مشرق ہے - اسي ليۓ " مقدمہ شعر وشاعري " کے مقابلے ميں اس کے اصول زيادہ مانوس ہيں - حالي کے  " مقدمہ " کي ايک خاص کمزوري ہے ------------- مغربي اصولوں کا رعب -------- خوش قسمتي  سے " شعر العجم "  اس کمزوري سے پاک ہے - شبلي کي اس کتاب ميں ان کي خود اعتمادي اور بالا دستي کا رنگ موجود ہے - انہوں نے قارئين کو مغربي نقادوں کے بڑے  بڑے ناموں سے خواہ مخواہ مرعوب کرنے کي کوشش نہيں کي -

" شعر العجم " ميں شبلي کا ادبي ذوق نہايت مکمل اور پختہ صورت ميں ظاہر ہوا ہے - اس ميں اشعار کا حسين انتخاب فارسي شاعري کا بہترين انتخاب ہے - " شعر العجم " ميں کيا اس کے اسلوب ميں اور کيا اس کے بيان ميں ہم سب سے زيادہ جس چيز سے متاثر ہوتے ہيں وہ مصنف  ----- لطافت طبع ہے - " مقدمہ شعرو شاعري " ميں سلاست روي اور اعتدال طبيعت کا احساس ہوتا ہے - " شعر العجم " ميں اس کے مصنف کے جمالياتي ذوق اور رنگيني مزاج کا اثر پڑتا ہے -

"شعرالعجم" ميں جس فن کي کتاب ہے، اس ميں دوسري معاصرانہ کتابيں اس کا مقابلہ نہيں کر سکتيں- "سخندانان پارس" بھي عملي تنقيد کي کتاب ہے- تنقيد کا يہ انداز شبلي کي اختراع نہيں- اس خاص بات کے علاوہ شبلي کے محاکمے کے اصول بہت حد تک سائنٹفک ہيں- اس کتاب ميں بلاغت اور فصاحت کے قديم تصور کي ساري غلط فہميوں کے بري طرح شکار ہيں- تاہم فصاحت کي ناقص بحث کے سوا ان کا تنقيدي عمل عموما بے عيب اور صحيح ہے-

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان