• صارفین کی تعداد :
  • 797
  • 1/22/2013
  • تاريخ :

شبلي کے اسلوب بيان کا ايک وصف بے ساختگي ہے

پرانی کتاب

الغزالي (1902 ء)

سوانح مولانا روم

شبلي کي سوانح نگاري کي خصوصيات

شبلي کا اسلوب بيان

شبلي کے اسلوب بيان کا ايک وصف بے ساختگي بھي ہے مگر يہ بے ساختگي سرسيد اور حالي کي تحريروں کي بےساختگي سے مختلف ہے - سرسيد کي تحرير کي بےساختگي عبارت ہے عام  مطالب کے لحاظ سے اس انداز ميں کہ وہ عبارت کي تنقيح و تہذيب  کا کچھ  اہمتام نہيں کرتے - ان کا انداز بيان قدرتي اور بےساختہ ہوتا ہے مگر اس ميں الفاظ  و عبارات کي پرداخت بالکل نہيں ہوتي اور محض عبارتيں علمي شان سے فروتر ہوتي ہيں - بعض صوتي لحاظ سے مکروہ اور ناگوار ہوتي ہيں - بعض ايسي ہوتي ہيں کہ ان کا طول بےحد ناخوشگوار ہوتا ہے - بعض بہت پيچيدہ اور گنجلک ہوتي ہيں - حالي کي تحرير سرسيد کي تحرير سے زيادہ شستہ  اور ہموار ہوتي ہے مگر ان کي عبارتيں نسبتا ڈھيلي ہوتي ہيں اور بےساختہ ہونے کے باوجود دست اور بعض اوقات پر تکلف ہوتي ہيں - شبلي کي نثر بھي بےساختہ ہوتي ہے مگر نہايت چست - مدعا نگاري وہ بھي کرتے ہيں مگر کہنے کا انداز پرتکلف ہوتا ہے - ان کي عبارتيں حسين سانچوں ميں ڈھيلي ہوئي معلوم ہوتي ہيں مگر طريق ايسا ہوتا ہے کہ تکلف اور اہمتمام بالکل معلوم نہيں ہوتا - غالبا اردو کا کوئي انشاء پرداز ايسا نہ ہو گا جس کي عبارت ميں موضوع اور بيان  ميں اتنا خوبصورت پيوند قائم ہوتا ہو -

شبلي کي تحريروں ميں بيکار عناصر کم سے کم ہوتے ہيں - وہ بيکار عناصر جو ساختگي کا لازمہ ہوتے ہيں ، حالي کي تمثيليں اور مرکب تشبيہيں بعض اوقات ان کے تکلف اور بےجا اہتمام کا پتہ ديتي ہيں مگر شبلي کي تحريروں ميں بےجا اہمتام شايد تلاش کرنے سے بھي نہ ملے اور طرہ يہ ہے کہ ان ميں کامل بےساختگي کے باوجود تجمل کا ايک خاص انداز اور حس کي ايک خاص شان پائي جاتي ہے - شبلي کي حسن کاري بےعيب ہے -

شبلي تنقيد ميں بھي صدر نشين بزم ہيں  اور ان کي کتاب " شعر العجم " " فارسي شاعري کي تاريخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے تنقيدي تصورات کے ليۓ بھي ايک کتاب حوالہ ہے - اس کے بعد "موازنہ انيس و دبير"  کا نمبر آتا ہے - اس ميں انہوں نے اور دو مرثيہ کي ماہيت سے بحث کي ہے مگر اس کے ضمن ميں انہوں نے اچھي شاعري کے اصول بھي پيش کيۓ ہيں - ان دو کتابوں کے علاوہ  " سوانح مولانا روم " ميں اور متعدد مقالات ميں انہوں نے نقد و نظر کے معياروں کا تذکرہ  کيا ہے - ادبي تنقيد سے قطع نظر انہوں نے  ادب  اور علوم کي بعض دوسري شاخوں کي تنقيد کے اصول بھي وضع کيے ہيں  مثلا سوانح نگاري اور تاريخ نگاري کے  اصول - اس کے عام اسلوب و انشاء وغيرہ کي بحث - غرض  ان کا اشہب قلم ہر ميدان ميں چلتا ہے -

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان