• صارفین کی تعداد :
  • 782
  • 1/21/2013
  • تاريخ :

پاکستان ميں شيعوں پر ظلم

پاکستان ميں شيعوں پر ظلم

اسلامي جمہوريہ پاکستان اسلامي دنيا کا ايک اہم ملک ہے جہاں مختلف مذاھب اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان آباد ہيں - پاکستان کو اپنے وجود ميں آنے کے بعد متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا مثلا جاگيردارانہ نظام، لاقانونيت،غربت، کم شرح خواندگي ، فرقہ واريت ، اقرباپروري ، رشوت وغيرہ وغيرہ  - ان مسائل ميں سے بعض مسائل ايسے تھے جن پر وقت کے ساتھ پاکستان کي عوام اور حکومت کچھ حد تک  قابو پانے ميں کامياب ہو گئي جبکہ بعض مسائل ايسے ہيں جن  کا احسن طريقے سے کوئي خاطر خواہ حل نہ نکالا گيا اور   وہ  وقت کے ساتھ شدت اختيار کرتے گۓ  -  پاکستان کے ان موجودہ مسائل ميں سے ايک بہت اہم مسئلہ  فرقہ واريت ہے -  قيام پاکستان کے  ليۓ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور حصہ ليا اور  اس کي بقا کے ليۓ بےحد قربانياں بھي ديں - قيام پاکستان کے ابتدائي سالوں ميں فرقہ واريت  اتني عام نہيں تھي مگر سن 1979 ء ميں افغانستان پر روسي  حملے کے بعد جب ضياء دور حکومت ميں مختلف عسکري تنظيميں ميدان ميں آئيں تب ان تنظيموں کے  برے اثرات  پاکستاني معاشرے پر بھي مرتب ہوۓ اور ان تنظيموں نے اپنے خاص فرقے اور عقيدے کو پروان چڑھانے کے ليۓ دوسرے فرقوں پر طاقت کا استعمال کرنا شروع کر ديا - اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کي شيعہ برادري کو ہوا -  ضياء دور حکومت ميں پاکستان ميں شيعہ برادري کو کوئي خاص تحفظ حاصل نہيں تھا اور  اس دور ميں سعودي عرب کے زير اثر  ضياء حکومت نے سپاہ صحابہ  جيسي دہشتگرد تنظيموں کو شيعوں کے قتل عام کي کھلي چھٹي دے رکھي تھي -  پاکستان ميں شيعوں کي اچھي خاصي تعداد آباد ہے - ايک اندازے کے مطابق شيعہ پاکستان کي آبادي کا 20 فيصد ہيں  يعني پاکستان کا ہر پانچواں شخص شيعہ ہے - پاکستان کي ترقي اور سياست ميں شيعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاکستان کي تعمير و ترقي ميں ايک اہم کردار ادا کيا ہے اور وہ محب وطن پاکستاني ہيں -  پاکستان ميں ہونے والے شيعہ سني فسادات اور باہمي نفرت کو پھيلانے ميں سعودي عرب کي حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے - سعودي حکومت پاکستان ميں ايسے اداروں اور تنظيموں کي  معاونت کرتي ہے جو شيعہ مخالف ہوتے ہيں اور ان کے ذريعے سے شيعہ مخالف منصوبوں کو عملي جامعہ پہنايا  جاتا ہے -  امام بارگاہوں  پر حملے اور شيعہ علماء اور شيعہ برادري سے تعلق رکھنے والے عام افراد کا قتل عام ايک عرصے سے معمول کا حصہ بنا ہوا ہے -  شيعہ برادري کے افراد کو  بڑي منصوبہ بندي کے تحت نشانہ بنايا جاتا ہے -  حاليہ برسوں ميں کوئٹہ ميں آباد شيعہ فرقے سے تعلق رکھنے والي ہزارہ برادري کو  نشانہ بنايا جا رہا ہے - حاليہ برسوں ميں جس انداز سے ہزارہ برادري کا قتل عام کيا گيا ہے اس پر انساني حقوق کي تنظيميں بھي سراپا احتجاج ہيں - بلوچستان کے شہر کوئٹہ ميں شيعہ زائرين کي بسوں کو نشانہ بنايا جانا اور ايک خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد  مذھب کي بنياد پر شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہيں -

( جاري ہے )

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

ايٹمي توانائي کا پرامن استعمال ايران کا حق ہے