• صارفین کی تعداد :
  • 2638
  • 12/31/2012
  • تاريخ :

کربلا کے فورا بعد وجود پانے والے انقلابات

محرم الحرام

واقعہ کربلا کے بعد کوئي انقلابات نےجنم ليا جن کي فہرست ذيل ميں ذکر کرتے ہيں:

1: انقلاب توّابين:

يہ انقلاب کوفہ ميں وجود ميں آيا اور امام حسين عليہ السلام کي شہادت کا مستقيما عکس العمل تھا وہ لوگ جنہوں نے امام حسين عليہ السلام کا کربلا ميں ساتھ نہيں ديا يا کسي وجہ سے ابن زياد کے لشکر ميں شامل ہو گئے تھے انہوں نے عاشورا کے بعد توبہ کرنا شروع کي اور کئي دنوں صحرا ميں استغفار کرنے کے بعد اپنے آپ کو شہادت کے ليے وقف کر ديا کہ ابن زياد سے امام عليہ السلام کے خون کا انتقام ليں گے اور اس راہ ميں شہيد ہو جائيں گے- [1]

2: انقلاب مدينہ:

يہ انقلاب توابين کے انقلاب سے مختلف تھا اس کا مقصد بني اميہ کے ظلم و ستم کے خلاف قيام کرنا تھا-

اہل مدينہ بني اميہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور يزيد کے گماشتہ کو مدينہ سے نکال باہر کيا اس قيام ميں شريک ہونے والوں کي تعداد ايک ہزار پر مشتمل تھي- يہ انقلاب سپاہ شام کے ذريعے نہايت ظلم و ستم کے ساتھ اختتام پذيد ہو گيا-[2]

3: مختار ثقفي کا قيام:

يہ قيام سن 66 ہجري ميں جناب مختار بن عبيدہ ثقفي کے ذريعے عراق ميں امام حسين عليہ السلام کے خون کا انتقام لينے کي غرض سے وجود ميں آيا يہ قيام اپنے مقصد کو پہنچ گيا مختار کے لشکر والوں نے ايک دن ميں دوسو اسّي يزيديوں کو ان کے کيفر کردار تک پہنچايا اور انہيں واصل جہنم کيا-[3]

4: مطرف بن مغيرہ کا قيام سن 77 ہجري ميں-

5: ابن اشعث کا انقلاب

سن 81 ہجري ميں،عبد الرحمن بن محمد بن اشعث نے حجاج کے خلاف قيام کر کے عبد الملک مروان کو خلافت سے معزول کر ديا-

يہ تحريک سن 83 ہجري تک جاري رہي ابن اشعث نے ابتدا ميں فوجي کاميابي حاصل کر لي تھي ليکن حجاج نے لشکر شام کي مدد سے اس پر غلبہ اختيار کر ليا-[4]

6: جناب زيد بن علي بن الحسين [ع] کا قيام:

سن 122 ہجري ميں زيد بن علي [امام سجاد] [ع] نے کوفہ ميں قيام کيا ليکن قيام تھوڑي مدت کے بعد سپاہ شام کے ذريعے کہ جو اس زمانے ميں عراق پر مسلط تھے خاموش کر ديا- [5]

حوالہ جات:

1- تاريخ طبرى، ج 4، انقلاب توابين، ص 425 و 436.

2: وہي، انقلاب مدينه، ص 366 و 381.

3: وہي ، ص 424.

4: وہي ، ص 189 و 203.

5: مقاتل الطالبين اصفهانى، ص 139.

بشکریہ: اہل البيت پورٹل

شعبہ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

عزادار حسين عليہ السلام کے آنسوۆں کي عظمت