• صارفین کی تعداد :
  • 914
  • 11/21/2012
  • تاريخ :

اسلامي جمہوريہ ايران  کي طرف سے فلسطيني عوام کي حمايت

ایران اور فلسطین

فلسطين پر اسرائيلي جارحيت آۓ دن کا معمول بن گيا ہے - کبھي ان کي شدت کم ہوتي ہے تو کبھي زيادہ - کبھي يہ انفرادي حملوں کي شکل ميں تو کبھي وسيع پيمانے پر گروہي حملوں کي شکل ميں - ضرورت اس امر کي ہے کہ اسرائيل کي طرف سے طاقت کے استعمال کو روکنے کے ليۓ ايک جامع حکمت عملي اپنائي جاۓ تاکہ اسرائيل کو ايسا ظلم برپا کرنے کي اجازت ہي نہ دي  جاۓ - اگر بين الاقوامي برادري اسرائيل اقدامات  پر سنجيدگي سے عمل کرے اور اس کو روکنے کے ليۓ بروقت اقدامات کرے تو اسرائيل کو ايسے حملے کرنے کي جرآت ہي نہ ہو - اس ليۓ  ضروري ہے کہ صيہوني حکومت کي دھمکيوں اور  جنگي تياريوں کو سنجيدگي سے ليا جاۓ اور انہيں روکنے کے ليۓ بروقت اقدامات کيے جائيں - اسي نتاظر ميں بات کرتے ہوۓ اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے بھي  غزہ پٹي پر صيہوني حکومت کي جارحيت کو علاقے ميں صيہوني حکومت کي دھمکيوں سے غفلت کا نتيجہ قرار ديا ہے- ملکي و غيرملکي نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوۓ انہوں نے کہا  کہ غزہ پٹي پر حملے ميں صيہوني حکومت کي گستاخيوں اور بچوں اور عورتوں کے قتل سے يہ ثابت ہوگيا کہ يہ جارحيت علاقے ميں صيہوني حکومت کي دھمکيوں سے غفلت کا نتيجہ ہے-انہوں نے صيہوني حکومت کے جرائم رکوانے اور ان کي مذمت کے لئے اسلامي جمہوريہ ايران کے اقدامات کے بارے ميں کہا کہ غزہ ميں ان صيہوني جرائم کے فورا" بعد سفارتي سرگرمياں شروع ہو گئيں اور وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے جيبوتي ميں او آئي سي کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر اسلامي ممالک کے حکام کے ساتھ تبادلۂ خيال کيا- رامين مہمان پرست نے مزيد کہا کہ غزہ ميں صيہوني حکومت کي جارحيت رکوانے اور انساني حقوق کي خلاف ورزي کي مذمت کے لئے علاقائي اور بين الاقوامي تنظيموں کو بھي خطوط ارسال کئے گئے ہيں-

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے بھي ناوابستہ تحريک کے سربراہ کي حيثيت سے مصر کے صدر محمد مرسي سے ٹيلي فوني رابطہ کرکے غزہ ميں ہونے والي صيہوني جارحيت رکوانے اور اس سلسلے ميں ناوابستہ تحريک کے رکن ملکوں کے رد عمل پر تاکيد کي- ايراني وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ملت فلسطين کي حمايت اسلامي جمہوريہ ايران کي بنيادي پاليسيوں ميں سے ہے اور تہران نے انسان دوستانہ امداد اور سياسي شخصيات اور ہلال احمر کے وفود غزہ بھيجنے کے لئے اپني آمادگي کا اعلان کيا ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران نے ہميشہ سے مظلوم فلسطينيوں کي حمايت کي ہے اور کسي بھي مرحلے اور موقع پر مظلوم فلسطينيوں کو تنہا نہيں چھوڑا - ہر طرح کے بين الاقوامي دباۆ اور خطرات کو پس پشت ڈال کر اسلامي جمہوريہ ايران نے فلسطينيوں کي امداد کي اور دنيا کے سامنے اسرائيلي ظلم کو واضح کرنے کے ليۓ ہر سطح پر سفارتي کوششيں کيں - ضرورت اس امر کي ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي طرز پر دوسرے اسلامي ممالک بالخصوص اور  بين الاقوامي برادري بالعموم ايسے اقدامات کريں جس سے اسرائيل کو اس نوعيت کي جارحيت سے روکا جا سکے   -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ملالہ يوسف زئي کون ہيں ؟