• صارفین کی تعداد :
  • 795
  • 11/21/2012
  • تاريخ :

غزہ  پھر سے اسرائيل بربريت کا شکار

غزه

غزہ پر اسرائيلي جارحيت

فلسطيني عوام کي حالت زار  کے متعلق دنيا کو آگاہي دينے والا ميڈيا بھي اب اسرائيل کي جارحيت سے محفوظ نہيں رہا ہے - اسرائيلي فوج نےاس  عمارت کو تيسري بار نشانہ بنايا  جس ميں بين الاقوامي ميڈيا کے نمائندے اور دفاتر  موجود ہيں  - بمباري کے نتيجے ميں  تين صحافي بھي ہلاک ہو چکے ہيں - اقوام متحدہ ہميشہ کي طرح اس بار بھي خواب غفلت ميں  ہے اور ابھي تک سلامتي کونسل ايک بيان پر غور کر رہي ہے جس ميں فريقين سے يہ مطالبہ کيا گيا ہے کہ وہ  ايک دوسرے پر حملے بند کر ديں اور غزہ ميں انساني حقوق کي صورت حال پر توجہ ديں - يہاں غور طلب بات يہ ہے کہ ايک طرف تو ہر طرح کے ہتھياروں سے ليس ملک ہے اور دوسرے طرف نہتي عوام ، پھر بھي اقوام متحدہ يہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسرائيل بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي کر رہا ہے اور مظلوم فلسطينيوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے-

اسرائيل نے ہمشيہ امن کے پيغام کو سننے سے انکار کيا ہے اور طاقت کے استعمال سے اپني بات کو منوانے کي کوشش کي ہے -  اسرائيل کے حملوں کو  رکوانے کے ليۓ دنيا کے متعدد ممالک نے کوششيں  شروع کر رکھي ہيں مگر ہميشہ کي طرح امريکہ نے اس بار بھي اسرائيل کي کھلي حمايت کا اعلان کيا ہے اور امريکي وزير خارجہ نے اسرائيل پہنچ کر يہ کہا ہے کہ اسرائيل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے -  امريکي وزير خارجہ کے برعکس ترک وزيراعظم رجب طيب اردگان کا کہنا ہے کہ فضائي حملوں کو دفاع نہيں کہا جا سکتا  - جنگ بندي کے ليۓ مسلم ممالک کوششوں ميں مصروف ہيں اور اسرائيل يورپ اور امريکہ کي حمايت حاصل کرنے ميں مصروف  نظر آ رہا ہے -  علاقے ميں تباہي پھيلانے اور مذموم مقاصد کے حصول کے ليۓ اسرائيل  جنگ بندي کي کوششوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا  ہے - مصر ميں ہونے والے مذاکرات کي بنا پر ايسا نظر آ رہا تھا کہ   جنگ بندي ہو جاۓ گي مگر حماس کے عہدے داروں کي طرف پيش کي گئي تجاويز کا اسرائيل نے کوئي جواب نہيں ديا  جس کے نتيجے ميں جنگ بندي کے معاہدے پر دستخط نہيں ہو سکے -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

 شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان