• صارفین کی تعداد :
  • 3071
  • 10/27/2012
  • تاريخ :

مہر کي زيادتي  

مہر کی زیادتی

  کثرت مہر کے نقصانات  

جہيز اور خانہ تباہي

جہيز کے بارے ميں ايک غلط فہمي کا ازالہ  

جہيز کي تاريخ کا سياہ ورق  

پہلے سے ہي مصيبتوں کي مار جھيل رہا سماج اب رسم جہيز کي وجہ سے کثرت مہر کي پريشانيوں سے بھي دوچار ہوتا جا رہا ہے- اس ليے کہ جب لڑکے والے جہيز کي خاطر اپني حميت و غيرت کا سودا کرنے پر بضد ہو جاتے ہيں تو پھر نکاح کے وقت لڑکي والے کي جانب سے مہر ميں ايک خطير رقم کي فرمائش ہوتي ہے- لڑکے والے چوں کہ جہيز کے ليے منہ کھول کر انکار کے مواقع گنوا چکے ہوتے ہيں لہٰذا انہيں مجبوراً قبول کرنا پڑتا ہے، جو لڑکے کي حيثيت سے کئي گنا زيادہ اور اس کا ادا کرنا لڑکے کے بس سے باہر کي بات ہوتي ہے- حالاں کہ نکاح ميں اس طرح مہر کي مقدار متعين کرنا جس کا ادا کرنا دولہے کي طاقت سے سوا ہو مناسب نہيں ہے اور يہ تکليف مالا يطاق بھي ہے- لہٰذا لڑکے کي حيثيت سے زيادہ مہر کي تعداد مقرر کرنا درست نہيں ہو سکتا- کچھ لوگ يہ سوچتے ہيں کہ چلو مہر کي رقم چاہے جتني زيادہ ہو کون سا ادا کرنا ہے، آخر وہ تو رہے گي ميري ہي بيوي- لہٰذا اس کے متعلق ميں کسي طرح کي باز پرس کا کوئي سوال ہي پيدا نہيں ہوتا- حالاں کہ ان کا يہ خيال بالکل غلط ہے اور اگر کوئي عورت اپنے شوہر سے کبھي دھوکے ميں بھي مہر کا مطالبہ کر بيٹھي تو پھر اس کي خيريت نہيں ہے- شوہر کي ناراضگي اور اس کے غصہ کا سامنا تو اس کو کرنا ہي پڑتا ہے، اوپر سے ساس، سسر، نند اور ديگر اہل خانہ کي جلي کٹي بھي اس کو سنني پڑتي ہے- کيوں کہ اس وقت اس کا مطالبہ شوہر اور ان کے اہل خانہ کي ناک اور انا کا مسئلہ چھيڑ ديتا ہے- لہٰذا اب کوئي عورت بھول سے بھي اس غلطي کو دہرانا نہيں چاہتي-

          حالاں کہ يہ طريقہ نہايت ہي غلط اور فکر سليم کے خلاف ہے- يہ انصاف کا کون سا پيمانہ ہے کہ جہيز جو نہ آپ کا حق ہے اور نہ ہي آپ کي ملکيت ، اس کا مطالبہ کرنا اور اس کو من چاہے انداز ميں خرچ کرنا آپ کے ليے درست ٹھہرے اور مہر جو کہ عورت کا جبري حق بھي ہے اور اس کي ملکيت بھي- ليکن اس کا اپنے اس جبري حق کا سوال بھي آپ کے نزديک کسي گناہ عظيم سے کم نہيں- مہر عورت کا شوہر پر جبري حق ہے، جس کا ادا کرنا شوہر پر واجب ہے، اگر کوئي مرد ادا نہيں کرتا اور بيوي اس کو معاف بھي نہيں کرتي تو قيامت کے دن اس مرد سے اس کے بارے ميں باز پرس ہو گي اور وہ حق العبد کو غصب کرنے کے جرم ميں گرفتار ہو گا-

قرآن مقدس ميں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے:

 ’’ اور آپس ميں ايک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاۆ-‘‘ (سورہ بقرہ- آيت188)

    مہر عورت کا ايسا حق ہے جو کسي طرح ختم نہيں ہوتا، اگر اس کا شوہر مہر ادا کيے بغير مر گيا تو وہ اس کے باپ يعني اپنے خسر سے اس کا مطالبہ کر سکتي ہے- جس کا ادا کرنا سسر پر واجب ہو گا-ہمارے معاشرے کے کچھ بے غيرت افراد يہ خيال کرتے ہيں کہ مہر چاہے جتنا ہو ادا کرنے کي ضرورت ہي نہيں آخر وہ ميري شريک حيات جو ٹھہري تو پھر معافي و درگزر کا راستہ کس دن کام آئے گا، اس طرح سے لڑکي کے لائے ہوئے سامان جہيز سے لڑکے والے کو چند دنوں کے ليے اپنے عيش و مستي کے لمحات تو ميسر آجاتے ہيں ، مگر اس کي قيمت بے چارے دولہے راجہ کو اپني شان و شوکت کي بلي چڑھا کر چکاني پڑتي ہے اور وہ آخر ميں مہر کي خطير رقم ادا نہ کر کے بيوي کے قدموں ميں گر کر معافي و درگزر کے سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، پھر بات يہاں مياں بيوي کے نازک رشتے کي ہوتي ہے- لہٰذا مجبوراً بيوي کو اپنے بے غيرت مياں کي لاج رکھني پڑتي ہے- جب کہ يہ کسي مرد کے شايانِ شان نہيں کہ وہ کسي عورت کے آگے اپنا سر جھکائے،

اللہ تعاليٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ مرد عورت پر حاکم ہے- اِس وجہ سے جو اللہ نے ايک دوسرے پر فضيلت دي ہے‘‘- (سورہ نساء- آيت33)

لہٰذا حاکم کا محکوم کے سامنے جھکنا شرمندگي و ندامت کے سوا کيا ہو سکتا ہے؟ حضور صلي اللہ تعاليٰ عليہ و سلم فرماتے ہيں کہ جس کسي مرد نے بھي کسي عورت سے تھوڑے يا زيادہ مہر پر نکاح کيا اور اس کے دل ميں مہر ادا کرنے کا ارادہ نہيں ہے تو اس نے اس عورت کو دھوکہ ديا اور اگر بغير مہر ادا کيے مرگيا تو وہ خدا کے حضور اس حال ميں حاضر ہو گا کہ وہ زنا کا مجرم ہو گا-  (کنزالعمال حديث 4042)

تحرير: صابر رہبر مصباحي

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان