• صارفین کی تعداد :
  • 1073
  • 10/27/2012
  • تاريخ :

ملالہ يوسف زئي پر ہونے والے حملے کي مذمت

ملالہ یوسف زئی

ملالہ يوسف زئي کون ہيں ؟

علم کي طالب  ملالہ يوسف زئي  پر حملہ

 اس حملے کي ملک کے سياسي ، مذھبي اور سماجي حلقوں نے پرزور الفاظ ميں مذمت کي ہے -

سوات ميں طالبات کي وين پر حملہ کے بارے ميں اپنے ايک بيان ميں مجلس وحدت مسلمين پاکستان کراچي ڈويژن شعبہ خواتين کي سيکريٹري جنرل خانم زہرا نجفي کا کہنا ہے کہ سوات ميں ملالہ يوسف زئي پر حملہ نہ صرف ايک بزدلانہ کاروائي ہے بلکہ يہ سراسر علم دشمني ہے جبکہ حصول علم تمام مسلمان مرد اور عورت پر فرض اور اس کے حصول کي جدوجہد کو عبادت ميں شمار کيا ہے-

مجلس وحدت مسلمين کراچي ڈويژن شعبہ خواتين کي سيکريٹري جنرل نے مزيد کہا کہ ہم اس بزدلانہ حملے کي پر زور مذمت کرتے ہيں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کہ اسکولوں اور طالبعلموں پر حملہ کرنے والے علم دشمنوں کے خلاف کارروائي کي جائے اور ان تمام متاثرہ علاقوں ميں حصول علم کے ديگر ذرائع پر بھي توجہ دي جائے جہاں سکولوں کو تباہ اور طالبعلموں کو حصول علم سے روکا جا رہا ہے-

پاکستان ميں ايسے واقعات نے بہت پريشان کن صورت اختيار کر لي ہے - کبھي شيعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے  افراد کي ٹارگٹ کلنگ کي جاتي ہے تو کبھي    ملک  کے تعليمي مراکز پر حملے کيے جاتے ہيں -   ميڈيا ميں يہ بھي اطلاعات سامنے آ رہي ہيں کہ طالبان نے  مزيد بچيوں کو نشانہ بنانے کي دھمکي دي ہے -  پاکستان جيسے ملک کو مٹھي بھر طالبان سوچ کے اختيار ميں نہيں ديا جانا چاہيۓ اور ان تمام پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لانے کي ضرورت ہے جن کي وجہ سے ملالہ يوسف زئي جيسي بچياں اور تعليمي ادارے غير محفوظ  ہيں -

پاکستان کي عوام اور حکومت کو يہ جان لينا چاہيۓ کہ استکباري طاقتيں ان کي دوست نہيں ہو سکتيں اور وہ خطے ميں اپنا تسلط قائم کرنے اور اپنے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کے ليۓ کوئي بھي راستہ اختيار کر سکتيں ہيں - پاکستان ميں اس طرح کے واقعات اکثر ايسے علاقوں ميں رونما ہوتے ہيں جہاں امريکہ اور مغربي ممالک کے مفادات وابستہ ہوتے ہيں - ملالہ يوسف زئي پر حملہ  کروا نے کا ايک مقصد يہ بھي ہو سکتا ہے کہ پاکستان کي مسلح افواج کو   وزيرستان ميں آپريشن کے ليۓ مجبور کيا جا سکے - امريکہ اس طرح کے واقعات کروانے کے ليۓ اکثر اوقات طالبان اور القاعدہ کے روپ ميں اپني خفيہ ايجنسيوں کا سہارا ليتا ہے - يورپ اور امريکہ ميں عورت استحصال کا شکار ہے اور اس معاشرے ميں عورت کي عزت جس انداز ميں پامال ہو رہي ہے وہ ساري دنيا جان چکي ہے مگر اسلامي ممالک ميں چھوٹے موٹے ايشوز کو اتنا اٹھايا جاتا ہے کہ پورے ملک کي تصوير بہت بھيانک بن جاتي ہے - ضرورت اس امر کي ہے کہ اپنے ملک کي حدود ميں مظالم کو کو روکا جاۓ خواہ  وہ معاشرتي خاميوں کي وجہ سے  رونما ہو رہے ہوں يا غيرملکي  مداخلت کي  وجہ سے - ظلم خواہ کسي بھي شکل ميں ہو وہ قابل مذمت ہے اور اس کي روک تھام کي جاني چاہيۓ -

 شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان