• صارفین کی تعداد :
  • 678
  • 10/10/2012
  • تاريخ :

شامي بحران کا پرامن حل ممکن ہے

شامی بحران کا پرامن حل ممکن ہے

شام ميں جاري بحران

 اسلامي جمہوريہ ايران بھي ان ممالک ميں شامل ہے جو شام ميں جاري بحران کا پرامن حل چاہتا ہے -  اقوام متحدہ ميں اسلامي جمہوريہ ايران کےمستقل نمائندے محمدخزاعي نے  شام کےبحران کا واحد راہ حل مذاکرات کوقرار ديا ہے اور  اس ملک ميں اغيارکي مداخلت کےنتائج سےخبردارکيا ہے-

 پريس ٹي وي کي ايک  رپورٹ کےمطابق محمد خزاعي نے  اقوام متحدہ ميں کہا کہ تہران شام کي حکومت اور مخالفين کےدرميان ثالثي کےلئے پوري طرح تيار ہے- ان کے بقول  اسلامي جمہوريہ ايران کا خيال ہے کہ شام کي صورت حال، صرف پرامن مذاکرات کےذريعےہي سلجھائي جا سکتي ہے-

 اقوام متحدہ ميں ايران کےنمائندے نےشام کےامور ميں بان کي مون کےنمائندے کوفي عنان کےمنصوبےکي حمايت کااعلان کرتےہوئےشام کےاقتداراعلي اور ارضي سالميت کي خلاف ورزي کےسنگين نتائج پر گہري تشويش ظاہرکي -

چين ، روس اور دنيا کے دوسرے ممالک بھي شام  ميں جاري لڑائي کو پرامن طريقے سے رکوانے پر زور دے رہے  ہيں - مصر کي حکومت نے بھي شام کے بحران ميں   اتحادي ممالک کي طرف سے فوجي مداخلت کي مخالفت کي ہے  اور اس بات پر زور ديا ہے کہ اگر فوجي مداخلت کي ضرورت پيش آۓ تو عرب ممالک کي افواج  کي طرف سے مداخلت کي حمايت کي ہے - خطے کے ممالک اور دنيا جانتي ہے کہ جہاں کہيں بھي  امريکہ اور نيٹو افواج نے مداخلت کي ہے تباہي اس علاقے کا مقدر ٹھہري ہے اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آۓ ہيں - عراق ، افغانستان اور ليبيا کي مثاليں  ہمارے سامنے ہيں -

اس وقت شام ميں دو طرح کي طاقتيں برسر پيکار ہيں - ايک وہ جو مغرب اور امريکہ نواز ہيں اور دوسري وہ جو شام حکومت کي حامي ہيں - شام کي حکومت پائيدار بنيادوں پر قائم ہے - يہي وجہ  ہے 18 مہينوں کي مداخلت اور لڑائي کے باوجود مغربي ممالک اور امريکہ شام ميں اسد حکومت کو تبديل کرنے ميں کامياب نہيں ہوۓ ہيں - يہ شام حکومت کي مضبوط سياسي اور عوام ميں  اس کي حمايت کو ظاہر کرتي ہے -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان