• صارفین کی تعداد :
  • 2162
  • 9/25/2012
  • تاريخ :

غير قانوني حکومت اور بچوں پر ظلم

غیر قانونی حکومت اور بچوں پر ظلم

 يہودي رژيم کي فلسطيني بچوں کے خلاف وحشيانہ جنگ

فلسطين، اقبال کي نظر ميں

اسرائيل جانتا ہے کہ اس کي حکومت اور رياست غيرقانوني ہے اور وہ قانون کا سہارا لے کر اس رياست اور حکومت کو قائم نہيں رکھ سکتا ہے اس ليے  ہميشہ سے اس کي کوشش رہي ہے کہ بين الاقوامي قوانين کو پس پشت ڈالا جاۓ اور طاقت کے زور پر اپنا تسلط  مشرق وسطي ميں برقرار رکھا جاۓ -

گذشتہ پچاس سالوں ميں اور خاص طور پر  تحريک انتفاضہ کے دوران اسرائيل نے فلسطين کے بچوں پر ظلم و ستم کي انتہا کر دي ہے - وہ بچے جو مستقبل کے معمار ہيں وہ ہر طرح کے ظلم و ستم کو برداشت کرنے پر مجبور ہيں -

اسرائيلي فوج مختلف طرح کے حربے استعمال کرکے ان بچوں کو گرفتار کرتي ہے - ان بچوں کو فلسطين کے گلي کوچوں سے اغواء کيا جاتا ہے اور انہيں جيلوں ميں ڈال ديا جاتا ہے حتي کہ گھروں سے بھي بچوں کو اٹھا ليا جاتا ہے - اسرائيلي حکومت اور فوج کے ايسے اقدامات  انہيں تباہي کي طرف دھکيل رہے ہيں -

اسرائيل کي حکومت اور فوج ايسے اقدامات کے ليۓ منظم حکمت عملي تيار کرتي ہے اور بڑي مکارانہ سازش کے ذريعے سے ايسي کاروائيوں کو جاري رکھتي ہے - ان کي ايک مثال وحشيانہ طريقے سے فلسطيني بچوں کا  اغواء ہے کہ جنہيں بغير کسي جرم کے گھروں سے اٹھا کر جيلوں ميں بند کر ديا جاتا ہے -

بعض بچوں کا قصور يہ ہوتا ہے کہ وہ اپني نفرت کا اظہار کرتے ہوۓ اسرائيلي فوجي گاڑيوں پر پتھر  پھينکتے ہيں جس کے باعث انہيں  پکڑ کر جيل ميں ڈال ديا جاتا ہے - ايسے ہي ايک واقعہ ميں سن 1985 ء ميں " بلاطہ " کے علاقے کے ايک بچے " ايھاب خميس منصور "  کو جيل کي کال کوٹھري ميں ڈال ديا گيا -

بعض بچوں کو کسي چوکي سے گزرتے ہوۓ گرفتار کيا جاتا ہے اور ان سے پوجھ گچھ شروع کر ديا جاتي ہے اور بہانہ يہ بنايا جاتا ہے کہ اس کي شکل کسي دوسرے سے ملتي ہے  جو ان کا مطلوبہ فرد ہوتا ہے يا  اس بچے کا تعلق کسي ايسے گروہ سے بتايا جاتا ہے جو اسرائيل کے خلاف جہادي سرگرميوں ميں ملوّث ہوتے ہيں -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان