• صارفین کی تعداد :
  • 779
  • 9/18/2012
  • تاريخ :

امريکيوں نے اپني گندگي اور ذلت کا ثبوت ديا

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی

آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي نے امريکيوں کي جانب سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ آلہ وسلم کي توہين پر مبني فلم کي تياري کي سازش پر مسلمانان عالم کے رد عمل کو دشمنان اسلام کے سامنے مسلمانوں کي يکجہتي کا مظاہرہ قرار ديا اور کہا: وہ اس فلم کے ذريعے مسلمانوں کے عيسائيوں سے لڑانا چاہتے تھے ليکن مسلمانوں کے مناسب اور ہمآہنگ اقدام نے ان کي سازش ناکام بنا دي-

 اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي  کي رپورٹ کے مطابق مرجع تقليد حضرت آيت اللہ العظمي ناصر مکارم شيرازي نے اتوار (15 ستمبر 2012) کے دن قم المقدسہ کي مسجد اعظم ميں درس خارج فقہ کے آغاز پر امريکہ ميں اسلام دشمني پر مبني فلم کي تياري اور نشر و اشاعت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امريکہ ميں ايک فلم ايک صہيوني (عيسائي صہيوني) نے 50 لاکھ ڈالر کي رقم وصول کرکے بناکر نشر کي جو انتہائي شرمناک فلم ہے-انھوں نے کہا: امريکيوں نے يہ فلم بناکر اپني عزت و آبرو تباہ کردي- انھوں نے کہا: امريکہ کے حکمران ابتداء ميں اسلامي روشوں سے مصر ميں داخل ہوئے تا کہ دنيا والوں کو بتائيں کہ مصر کي اسلامي بيداري ان کے مفاد ميں ہے ليکن اس فلم اس فلم کو تيار کرکے اور مسلمانوں کے مقدس ترين مقدسات کي توہين کرکے اپنا حقيقي چہرہ بے نقاب کيا اور اپني گندگي اور ذلت کا ثبوت فراہم کيا- انھوں نے اس سازش کے مقابلے ميں مسلمانوں کے رد عمل کو دشمنان اسلام کے سامنے مسلمانوں کي يکجہتي کي علامت قرار ديتے ہوئے کہا:

وہ اس فلم کے ذريعے مسلمانوں کے عيسائيوں سے لڑانا چاہتے تھے ليکن مسلمانوں کے مناسب اور ہمآہنگ اقدام نے ان کي سازش ناکام بنا دي- حوزہ علميہ قم کے نامور استاد نے کہا: جو بھي ہالوکاسٹ اور نازي جرمني ميں يہوديوں کے قتل عام کے افسانے کے بارے ميں بات کرنے چاہے اس کو لائق سزا قرار ديا جاتا ہے-

 انھوں نے کہا:

امريکيوں نے ايک ارب چاليس کروڑ مسلمانوں کے مقدسات کي توہين کرکے اس کو بيان کي آزادي کا نام ديا اور اب اس کي مذمت نہيں کرتے ليکن اگر کوئي ہالوکاسٹ کے بارے ميں اظہار خيال کرے تو اس کو سزا ديتے ہيں اور جيلوں ميں بند کرتے ہيں-

 آيت اللہ العظمي مکارم شيرازي نے کہا: قرآن اور اسلام کے دشمنوں کي منطق، توہين اور گستاخي ہے اور مسلمانوں کے مقدسات کي توہين پر مبني فلم کي تياري امريکيوں کي پستي اور رذالت کا ثبوت ہے- شيعہ مرجع تقليد نے آخر ميں کہا: جو لوگ امريکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہيں انہيں اس واقعے سے عبرت ليني چاہئے اور جو لوگ اب بھي سوچتے ہيں کہ امريکہ اور صہيوني رياست ان کي مدد کرسکتے ہيں وہ غلطي پر ہيں انہيں اس حادثے سے عبرت لے کر ان کے وحشي پن اور انسانيت کشي کي منطق کا ادراک کرنا چاہئے-