• صارفین کی تعداد :
  • 646
  • 9/11/2012
  • تاريخ :

اسلامي ممالک پر امريکي حملے  ايک بڑي غلطي

نائن الیون

نائن اليون ايک مشکوک واقعہ

امريکي جنگي جنون سے اقتصادي تباہي

امريکي عوام کو دھوکہ

امريکہ کا خود ساختہ زخم

کوفي عنان نے ستمبر 2004ء ميں کہا تھا کہ “ ہمارے نقطہ نظر اور اقوام متحدہ کے چارٹر کي رو سے عراق جنگ خلاف قانون ہے- سوال پيدا ہوتا ہے کہ سوا لاکھ انسانوں سے زائد کا لہو پي جانے والي اس سفاک جنگ کے منصوبہ سازوں کے بارے ميں اقوام متحدہ نے کيا کيا؟ امن کے نوبل انعام يافتہ اور انساني حقوق کي پاسداري کے حوالے سے شہرت رکھنے والے پادري آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو (Desmond Tutu) نے اپني ايک حاليہ تحرير ميں مطالبہ کيا ہے کہ سابق امريکي صدر جارج ڈبليو بش اور سابق برطانوي وزيراعظم ٹوني بليئر کے خلاف جنگي جرائم کا مقدمہ چلنا چاہئے- آرچ بشپ کي کوئي نہيں سنے گا کہ اقوام متحدہ بھي دراصل قصر سفيد کي کنيز بن چکي ہے- اس کے سارے قوانين اور ضابطے اسلامي ممالک کے لئے مخصوص ہوکر رہ گئے ہيں-

امريکہ بھر ميں نائن اليون کے فوراً بعد سے نفرت کے تحت ہونے والے جرائم ميں 17 گنا اضافہ ہوا ہے-سرکاري اعداد و شمار کے مطابق ايسے جرائم 2001 کے مقابلے کم تو ہوئے ہيں ليکن اب بھي ہر سال سو سے زيادہ ايسے واقعات کے معاملے درج کيے جا رہے ہيں-فہد احمد نيويارک ميں انساني حقوق کي تنظيم کے ڈائريکٹر ہيں- ان کي تنظيم نے 11 ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد سے ہي جنوبي ايشيائي مسلمانوں کي مدد کرني شروع کر دي تھي-وہ کہتے ہيں نائن اليون کے فورًا بعد کئي معاملے ہمارے پاس آئے جس ميں پاکستاني نژاد مسلمانوں کے گھر والوں کو چھاپا مار کر اٹھا ليا گيا- اول کئي ہفتوں تک ان کا کچھ پتہ نہيں چلا- اب بھي لوگ آتے ہيں جن کو پوليس روکتي ہے اور پوچھتي ہے کہ تم مسلمان ہو، کون سي مسجد ميں جاتے ہو- اسي طرح امريکہ ميں داخل ہونے والوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کون سي مسجد جاتے ہو، وہاں خطبہ ميں کيا کہا جاتا ہے- نائن اليون کے بعد سے اس طرح نشانہ بنائے جانے کي وجہ سے ہزاروں کي تعداد ميں مسلمانوں نے اپني نوکرياں چھوڑيں، کاروبار بند کيے اور بہت سے مسلمان تو امريکہ چھوڑ کر واپس اپنے ملکوں کو چلے گئے-بہت سے مسلمانوں کو مختلف وجوہات کي بنا پر گرفتار کرکے ملک سے نکالا بھي گيا اور بہت سے اب بھي مختلف قوانين کے تحت جيلوں ميں بند ہيں-

پيشکش : شعبہ تحرير و پيشکش تبيان