• صارفین کی تعداد :
  • 625
  • 9/10/2012
  • تاريخ :

 بحريني راہنما کا اظہار خيال: المرسي حسني مبارک کے وارث

المرسی حسنی مبارک کے وارث

ايک بحريني سياسي راہنما کا کہنا تھا کہ ہميں مرسي سے منصفانہ موقف اپنانے کي توقع نہيں ہے کيونکہ المرسي ايک معينہ عالمي قاعدے کي پيروي کررہے ہيں اور وہ درحقيقت حسني مبارک کي حکومت کے وارث اور جانشين ہيں-

 اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي ـ ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق بحريني تنظيم "قومي اقدام برائے حمايت انقلاب و استقامت بحرين" (National initiative to support the the revolution Sustainability of Bahrain) کے کوآرڈينيٹر محمد کاظم الشہابي نے قاہرہ ميں ہونے والے عرب ليگ کے اجلاس کے دوران المرسي کي تقرير ميں بحرين کي طرف اشارہ نہ ہونے کي طرف کو ہدف تنقيد بناتے ہوئے کہا: ہميں المرسي سے منصفانہ موقف اپنانے کي توقع نہيں ہے کيونکہ مرسي ايک معينہ عالمي قاعدے کي پيروي کررہے ہيں اور وہ درحقيقت حسني مبارک کي حکومت کے وارث اور جانشين ہيں-الشہابي نے بدھ (5ستمبر2012) کو العالم کے ساتھ بات چيت کرتے ہوئے کہا: بحرين کي خليفي حکومت کو عوام کے خلاف ظالمانہ اقدامات کرنے ميں واشنگٹن، لندن، تل ابيب، رياض اور عرب ممالک کي حمايت حاصل ہے جس کي بنا پر وہ انساني حقوق کي تنظيموں کي دعوتوں اور رپورٹوں کو کوئي اہميت نہيں ديتي-انھوں نے کہا: امريکہ اور سعودي عرب آل خليفہ حکومت کے عوام دشمن اقدامات کي کھلي حمايت کررہے ہيں جبکہ آل خليفہ حکومت کا اپنا کوئي سياسي عزم و ارادہ نہيں ہے اور اس کے فيصلے واشنگٹن اور رياض ميں ہوتے ہيں-انھوں نے کہا: بحرين ميں سياسي قيديوں کي رہائي يا قيد کے فيصلے واشنگٹن اور رياض ميں ہوتے ہيں-انھوں نے کہا: بحرين ميں انساني حقوق کي صورت حال کے بارے ميں اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل کي نشستيں عنقريب جنيوا ميں شروع ہورہي ہيں ليکن آل خليفہ حکومت نے اپنا ريکارڈ صاف کرنے کي غرض سے قيديوں کو رہا کرنے کي بجائے 13 اہم راہنماۆں کو احتجاجي مظاہروں ميں شرکت کي بنا پر قيد اور ديگر سزائيں سنائي ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امريکہ اور يورپي ممالک نے اس حکومت کو گرين سگنل ديا ہے اور يقين دہاني کرائي ہے کہ وہ جنيوا کي نشستوں ميں کسي قسم کا اقدام نہيں ہونے ديں گے چنانچہ وہ انساني حقوق کي کھلم کھلا خلاف ورزي کررہي ہے کيونکہ اس کو کہيں سے بھي کسي دباۆ کا سامنا نہيں ہے- الشہابي نے بدھ (5ستمبر2012) کو قاہرہ ميں ہونے والے عرب ليگ کے اجلاس ميں المرسي کي تقريروں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: المرسي نے اپني تقريروں ميں شام، فلسطين، يمن، عراق، سوڈان اور صوماليہ کي طرف اشارہ کيا ليکن بحرين کا نام تک نہيں ليا تا ہم ہميں بحرين کے سلسلے ميں المرسي سے کوئي بھي منصفانہ موقف اپنانے کي توقع نہيں ہے کيونکہ وہ ايک معينہ اور طے شدہ ايجنڈے پر عمل پيرا ہيں-انھوں نے کہا: المرسي حسني مبارک کے جانشين اور وارث ہيں؛ مصر ميں افراد تبديل ہوگئے ہيں ليکن حکومت کي اصل ہيئت اور جوہري وجود ميں کوئي تبديلي نہيں آسکي ہے اور خارجہ پاليسي ميں مصري حکومت کے ارادے واشنگٹن کے تابع ہيں-بحريني راہنما نے مزيد کہا: ميرا يہ مدعا المرسي کے انتخاب سے لے کر آج تک کے موقف کے عين مطابق ہے اور المرسي حسني مبارک کا مشن آگے بڑھا رہے ہيں-