• صارفین کی تعداد :
  • 3627
  • 9/9/2012
  • تاريخ :

" پيشوائے صادق "   ميں حضرت امام جعفر صادق کے  متعلق بيان

پیشوائے صادق

 رہبر اسلام و مسلمين حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي دام ظلہ نے امام جعفر صادق عليہ السلام کي حيات مبارکہ پر ايک کتاب " پيشوائے صادق " کےعنوان سے لکھي ہے جو اسلامي انقلاب کے قبل پہلوي ظلم و استبداد کے گھٹن آميز دور ميں ، کي جانے والي ايک تقرير پر مشتمل ہے ، اس کتاب ميں آپ نے اس زمانے ميں حکمراں ،سماجي اور سياسي حالات ميں ، امام صادق عليہ السلام کي " اجتماعي جد وجہد " کو موضوع سخن بنايا ہے - آپ نے خلفائے بني اميہ اور بني عباس کے دور ميں اسلامي علوم و معارف کے ميدان ميں درباري علماء کي انحرافي تبليغات کے مقابل امام عليہ السلام کي ثقافتي کوششوں کو دو عنوانوں ميں تقسيم کيا ہے - پہلا عنوان ہے مسئلۂ امامت کي تشريح و تبليغ اور دوسرا عنوان ہے اہلبيت عليہم السلام کي روش پر قرآن کي تفسير اور احکام کي وضاحت " - ہم اس مختصر گفتگو کے آخر ميں رہبر معظم کي تحرير سے ايک اقتباس پيش کر رہے ہيں : آپ لکھتے ہيں " امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے زمانے کے وسيع ترين علمي و فقہي مراکز ميں سے ايک عظيم مرکز کے مالک تھے - امام صادق عليہ السلام کي زندگي کا مطالعہ کرنے والوں کي نظر سے ايک مسئلہ جو يکسر پوشيدہ رہ گيا ہے اس سلسلے ميں آپ کي سياسي مفہوم کي حامل وہ تنقيدي روش ہے جس کي طرف ہم ايک اشارہ کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر عرض کرديں کہ اسلام ميں خلافت، دوسرے تمام حکومتي طريقوں کي نسبت ، اس اعتبار سے الگ ہے کہ يہ صرف ايک سياسي منصب نہيں ہے بلکہ يہ ايک مذہبي -سياسي رہبري ہے اسلام ميں خليفہ پيغمبر (ص) کا جانشين شمار کيا جاتا ہے جو دين لانے اوراخلاق کي تعليم دينے کے ساتھ ہي عالم اسلام کے سياسي حاکم اور رہبر بھي تھے - اسلام ميں خليفہ سياست کے علاوہ لوگوں کے ديني امور کا کفيل اور مذہبي پيشوا بھي سمجھا جاتا ہے - يہي وجہ ہے صدراول سے ہي خصوصا حضرت علي اور امام حسن عليہما السلام کے بعد سلسلۂ خلافت ميں آنے والے حکام نے کہ جن کي ديني آگاہي يا تو بہت کم تھي يا وہ اس سے بالکل بے نصيب تھے، کوشش کي کہ اپنے درباروں ميں ديني شخصيتوں کو ملازم رکھ کر اس کمي کو پورا کريں لہذا بہت سے نام نہاد زرخريد علماء فقہا مفسرين و محدثين درباروں سے وابستہ ہوگئے اور انہوں نے خليفہ کے دربار کو " دين اور سياست کا مجموعہ " ظاہر کرنے کي کوشش کي اس کا سب سے بڑا فائدہ ظالم حکمرانوں کو يہ تھا کہ وہ اپني مصلحتوں کے مطابق ديني احکام ميں تغير اور تبديلي پيدا کرکے اس کو استنباط اور اجتہاد کا نام ديديا کرتے تھے -"

رہبر اسلام و مسلمين لکھتے ہيں: بنواميہ کے آخري اور بني عباس کے ابتدائي دور ميں بہت سے فقہا ايسے بھي تھے کہ جنہوں نے بدعت آميز طريقوں منجملہ قياس اور استحسان سے کام ليکر اسلامي احکام اپني طبيعت کے مطابق جو در اصل ظالم حکام کي خواہش کي ترجماني کرتے تھے صادر کردئے تھے عينا" يہي کام قرآن کي تفسير کے بارے ميں بھي کيا گيا اور اس طرح فقہ و حديث و تفسير دو بڑي روشوں اور لہروں ميں تقسيم ہوگئيں - ايک ظالم حکومتوں سے وابستہ دربار کي روش اور ايک حقيقي الہي و محمدي (ص) روش کہ جس کي نمائندگي اہلبيت رسول (ص) انجام دے رہے تھے - لہذا اس دور ميں " فقہ جعفري " کي اصطلاح اس زمانے کے سرکاري و درباري فقہا کے مقابلے ميں استعمال ہوئي ہے -امام صادق عليہ السلام نے اپنے علمي دسترخوان کو وسعت ديکر فقہ ،اسلامي معارف اور قرآن کي تفسير کے سلسلے ميں حکومت سے وابستہ علماء کي روش سے الگ مرسل اعظم (ص) کي روش اپناکر علمي طور پر دربار کے خلاف ايک ثقافتي جہاد کا آغاز کرديا -

چنانچہ رہبر اسلام آگے بڑھ کر تحرير فرماتے ہيں کہ: منصور دوانقي نے جو کافي ذہين و زيرک تھا اور جس کي ايک عمر بنواميہ کے خلاف پيکار ميں گزري تھي ، اس حقيقت کو درک کرليا کہ امام صادق (ع) نے حکومت کے خلاف بالواسطہ جہاد کا ايک دروازہ کھول ديا ہے لہذا اس نے آپ کے خلاف بڑے وسيع اور غير محدود پيمانے پر دباۆ اور سختياں بڑھاديں اور آپ کي علمي و فقہي سرگرميوں کو کہ جس کا تاريخي کتب ميں وسيع پيمانے پر ذکر ہے نظر ميں رکھنے کے لئے کافي تگ و دو سے کام ليا-

اور جب کچھ نہ کرسکا تو بالآخر زہر کے ذريعے آپ کو شہيد کرديا -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

تاريخي تنقيد پر تبصرہ امام