• صارفین کی تعداد :
  • 3454
  • 9/2/2012
  • تاريخ :

جعفر صادق نے شعيوں اور دوسرے مسلمانوں کي رھبانيت کي شديد مخالفت کي

امام جعفر صادق

کہا جاتا ہے کہ جس وقت سلطان محمد دوم ملقب بہ فاتح ‘ نے قسطنطنيہ کا محاصرہ کيا تو اس شہر کے راہب بجائے اس کے کہ شہر کے دفاع کيلئے اقدامات عمل ميں لاتے ‘ عيسي کي ناسوتي اور لاہوتي ماہيت کے بارے ميں بحث کر رہے تھے بعض لوگوں نے اس روايت کو مذاق قرار ديا ہے اور کہا ہے کہ عقل اس بات کو تسليم نہيں کرتي کہ قسطنطنيہ کے کليسا کے راہب شہر پر حملے کے خطرے کو نظر انداز کرکے عيسي کي ناسوتي اور لاہوتي ماہيت کے بارے ميں بحث ميں مبتلا ہوں ليکن اس روايت کو جھوٹا س لئے قرار نہيں ديا جا سکا کہ آرتھوڈ کسي کليسا ميں عيسي کي لاہوتي اور نا سوتي فطرت کے بارے ميں مسلسل بحث ہوتي ہے لہذا يہ بعيد نہيں ہے کہ جب سلطان محمد نے چند ماہ کيلئے قسطنطنيہ کا محاصرہ کيا تھا تو شہر کے راہب پھر اسي موضوع پر تبادلہ خيالات کر رہے ہوں گے -

جو کچھ ہم نے کوہ آتوس کي خانقاہوں کے بارے ميں کہا ‘ اس سے ہمارا مقصد عيسائيت ميں عيسي کے ناسوت يا لاھوت ہونے کے بارے ميں اختلاف کي تائيد کرنے کے علاوہ يہ بھي بيان کرنا ہے کہ شيعہ مذہب کو زوال سے بچانے کيلئے جعفر صادق کون سا قدم اٹھايا ؟ دوسري صدي ہجري کے پہلے پچاس سالون ميں مسلمانوں ميں رھبانيت کي جانب ميلان پيدا ہوا - دوسري صدي ہجري کا پہلا نصف اور دوسرا نصف عرصہ وہ زمانہ ہے جس ميں مسلمانوں ميں بہت سے فرقوں نے جنم ليا اور تيسري صدي تک يہ عمل جاري رہا - دوسري صدي ہجر کے پہلے اور دوسري نصف عرصے ميں جنم لينے والے فرقوں کا ايک گروہ رھبانيت کي طرف مائل تھا ان فرقوں کے بانيوں کا عقيدہ تھا کہ آدمي معمول کي زندگي کو ترک کرکے اپني تمام عمر گوشہ تنہائي ميں گزار دے -

انہوں نے انسان کے فرائض کو مختل اقسام کے اعتکاف ميں متعين کر ديا تھا ان ميں سے بعض کہتے تھے جب انسان اعتکاف ميں بيٹھے تو اسے چاہيے کہ تمام اوقات نماز کي ادائيگي ميں مشغول رہے کيونکہ اسلام ميں نماز سے بڑھ کر کوئي عبادت نہيں -

بعض کا عقيدہ تھا کہ روزہ رکھنا نماز سے افضل ہے لہذا جو کوئي اعتکاف ميں بيٹھے اسے ساري عمر روزہ سے رہنا چاہيے -

ان سے ذرا ماڈرن فرقے کے بعض بانيوں کا کہنا تھا کہ انسان جب معتکف ہو جائے تو اسے صرف خداوند تعالي کے بارے ميں غورو خوض کرنا چاہيے کيونکہ سب سے افضل عبادت خداوند تعالي کے بارے ميں غورو فکر ہے يہ سب فرقے رھبانيت کا شوق دلاتے تھے بلکہ تاکيد بھي کرتے تھے ليکن ان ميں سے کوئي بھي اپنے پيروکاروں کے معاش کے بارے ميں فکر مند نہ تھا کيونکہ ان کا خيال يہ تھا کہ جو لوگ معتکف ہوں گے ان کي معاش کا بندوبست اوقاف کے ذريعے کيا جائے گا اور اس ميں کوئي شک نہيں کہ عيسائيت کي خانقاہوں کي مثال ان کے مد نظر تھي -

جب انہوں نے ديکھ ليا کہ وہ خانقاہيں اوقاف کي حامل ہيں لہذا ہمارے جو لوگ معتکف ہو جائيں گے ان کيلئے بھي اوقاف سے بندوبست ہو جائے گا شيعہ بھي دوسرے اسلامي فرقوں کي مانند رہبانيت کي طرف مائل ہوئے خصوصا وہ لوگ جن کي فطرت ميں رہبانيت ہوتي ہے اور وہ زندگي ميں کام کرنا نہيں چاہتے ان کيلئے ترک دنيا کا يہي بہانہ کافي تھاي -

جعفر صادق نے شعيوں اور دوسرے مسلمانوں کي رھبانيت کي شديد مخالفت کي - جعفر صادق علم تھا کہ اگر رھبانيت کا نظريہ شيعہ ميں مضبوط ہو گيا تو يہ فرقہ نابود ہو جائے گا خاص طور پر اس زمانے کي بني اميہ کي حکومتيں بھي شيعوں کي مخالف تھيں اور کبھي تو وہ اپني مخالفت کا بر ملا اظہار بھي کرتے تھے ايسي صورت ميں ہم اندازہ لگا سکتے ہيں کہ شيعوں کي غفلت ان کيلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتي تھي -

بني اميہ چاہتے تھے کہ شيعہ ‘ دنيا کو ترک کرکے معتکف ہو جائيں اس طرح وہ بيروني دنيا سے اپنا رابطہ منقطع کر ليں تاکہ باہر سے کوئي ان سے رابطہ نہ رکھے اور وہ تبليغ کے ذريعے شيعہ مذہب کو نہ پھيلا سکيں - بني اميہ جانتے تھے کہ شيعہ جب دنيا سے ہاتھ دھو ليں گے اور تمام عمر ايک عبادت گاہ ميں گزاريں گے تو کچھ عرصے بعد خود بخود ختم ہو جائيں گے -

چونکہ خانقاہ ‘ کليسا کي مانند نہيں ہوتي اس ميں کليسا کي مانند مذہبي تبليغ کے وسائل بھي مہيا نہيں ہوتے -

کليسا مذہبي سرگرميوں کا مرکز ہوتا ہے اور کليسا کے نام پر جہاں کہيں کوئي مرکزي مذہبي تنظيم وجود ميں آتي ہے تو اس کا واضح مقصد مزہب کا فروغ ہوتا ہے جو افراد کسي مذہب کے مرکزي انسٹيٹيوٹ ميں کام کرتے ہيں وہ ان رضا کاروں کي مانند ہوتے ہيں جو مزہب کو تقويت پہنچانے اور اس کے فروغ کيلئے جنگ لڑتے ہيں چونکہ جو شخص کسي مقصد کيلئے جدوجہد کرتا ہے اسے اس کا نتيجہ ملتا ہے لہذا يہ لوگ جو مذہب کيلئے جنگ لڑتے ہيں انہيں بھي ان کے مساعي کا پھل ملتا ہے ليکن جو شخص خانقاہ ميں گوشہ نشين ہو جاتا ہے وہ شکست خوردہ ہوتا ہے اور جنگ و جہاد کو ايک طرف رکھ ديتا ہے -

خانقاہ ميں گوشہ نشيني کي وجوہات مختلف ہو سکتي ہيں ليکن يہ بات عيان ہے کہ جو کوئي خانقاہ ميں گيا وہ اب مجاہد نہيں رہا وہ جہاد کو ترک کرکے ساري عمر کيلئے ايک ہي ڈھنگ کي زندگي گزارنا چاہتا ہے - خصوصا شيعوں کو بني اميہ جن کے خون کے پياسے تھے - جعفر صادق جانتے تھے کہ اگر اس مذہب کے کچھ لوگوں کو کسي خانقاہ ميں عبادت کيلئے معتکف کيا جائے تو يہ مذہب کيلئے ہر گز سود مند نہيں ہو گا اس طرح مذہبي اشاعت رک جائے گي -

مصنف: فرانسوي دانشوروں کي ايک جماعت

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

"علم " بنظر امام صادق