• صارفین کی تعداد :
  • 2329
  • 8/27/2012
  • تاريخ :

انبياء (عليهم السلام) كے درميان فرق كے اسباب

نبوت

سورہ شوريٰ كي آيت نمبر 13 ميں ارشاد ہے:

شَرَعَ لَكُم مِن الدّين مَاوَصّيٰ بہ نوحا وَ الّذي اَوحَينَا اِلَيكَ وَمَا وَصّينَا بِہِ اِبرَاھِيمَ وَ مُوسيٰ وعيسٰي-

 يعني: خدا وند عالم نے تمہارے لئے ايسے دين كا وہي راستہ مقرر كيا ہے جس كي اس نے نوح(ع) سے وصيت كي، اور ائے رسول (ص) وہي ہم نے آپ پر وحي كي صورت ميں نازل كيا اور اسي كي ابراہيم(ع) و موسيٰ (ع) و عيسيٰ(ع) سے سفارش كي-

اس آيت اور دوسرے بہت سے حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے كہ تمام آسماني اديان كي اساس و بنياد ايك ہي ہے اور پيغمبروں(ع) كي دعوت و ہدايت كے اصول بھي باہم مشترك اور ايك ہي ہيں، ليكن اس كے باوجود ہر دور ميں ان اصول كے نفاذ اور انہيں مقرر كرنے كے سلسلہ ميں انبياء كا طريقہ كار متفادت اور جداگانہ رہا ہے- جملہ انبياء كرام ميں صرف پانچ بڑے پيغمبر ہيں يعني حضرت نوح(ع) ، ابراہيم (ع) موسيٰ(ع) و عيسيٰ(ع) و حضرت محمد صلي اللہ عليہ واٰلہ وسلم جو مستقل شريعت لائے اور حقيقتاً وہ" تشريعي نبوت" كے حامل رہے ہيں-  جس كي طرف مذكورہ آيت ميں اشارہ كيا گيا ہے- بقيہ پيغمبران ہي اديان كي تبليغ پر مامور كئے گئے تھے، اور ان كا فريضہ ان اديان كے مطابق لوگوں كي ہدايت كرنا تھا يہ انبياء "تبليغي نبوت" كے حامل تھے- اس كے علاوہ ان بڑے انبياء كرام كے درميان بھي احكام و قوانين اور انداز تبليغ و ہدايت كے لحاظ سے خاصا فرق پايا جاتا ہے- جس كي چند جہات ہيں:

1. ماحول نيز، احتياج و ضرورت كي سطحوں اور لوگوں كي ذہني و فكري استعداد كا فرق - يہ ايك ناقابل انكار پہلو ہے كہ انبياء كرام لوگوںكي ہدايت كے لئے تشريف لائے- اس اعتبار سے قوانين و احكام كي نوعيت اور ارشاد و معارف كي سطح انساني معاشرہ كي فكري سطح اور ماحول كي ضرورتوں كے مطابق ہوني چاہيئے- يہ بات طبيعي و فطري ہے كہ  قرون اوليہ يا ابتدائي زمانوں ميں انسان كے باہمي اجتماعي روابط بہت محدود تھے اور اس كا اجتماعي و معاشرتي نظام كوئي وسعت يا پھيلاۆ نہيں ركھتا تھا- اس وجہ سے محدود و مختصر قوانين ہي اس كي زندگي كو ادارہ اور روبراہ كرنے كے لئے كافي ہوتے تھے- يوں ہي معاشرہ ميں مختلف آراء و خواہشات، افكار و عقائد رائج نہيں ہوئے تھے كہ ان كي اصلاح كے لئے بہت زيادہ ہدايات كي ضرورت ہوتي- افكار و روابط كي يہ وسعت نئي نئي چيزوں كي شناخت، فطري عوامل سے سابقہ اور نت نئي ضرورتيں رفتہ رفتہ نئي ہدايت و رسالت كے اسباب فراہم كرتي رہيں، يہاں تك كہ آخر كا ر اسلامي دعوت كي شكل ميں آخري و كامل تبليغ و ہدايت كا ماحول سازگار اور اسباب فراہم ہوئے-

2. معاشرہ كے خود غرض اور مطلب پرست حكام، مذہبي علماء اور نادان پيروكاروں كے ذريعہ گزشتہ اديان ميں انحرافات و تحريفيں وجود ميں آتي رہيں- يہ ايك فطري سي بات ہے كہ سالہا سال كي طويل مدت ميں ايك ديني معاشرہ كے اندر اغيار كے آراء و افكار كي آميزش، اور نادانوں و صاحبان غرض كے ہاتھوں افسانوں، من گھڑت داستانوں اور خرافات كي ايجادات، ساتھ ہي دين كي اصل كتابوں ميں ہونے والي تبديلياں اور اس كے باقي ماندہ آثار كي غلط و جاہلانہ توجيہات- خاص طور سے ان حالات ميں جب كہ ابھي انسان اپنے ديني آثار كو محفوظ كرنے اور اس كي درست تدوين كرنے پر قادر نہ ہوا ہو، يہ ديني آثار و نوشتے آساني كے ساتھ لوگوں كے حملوں كا نشانہ يا دوسرے حادثات كا شكار ہوجاتے ہيں- اور اس طرح كچھ عرصہ كے بعد گزشتہ پيغمبر كے بتائے ہوئے صحيح اصول و قوانين كا معلوم كرلينا نا ممكن ہوجاتا ہے- ايسي صورت ميں لازم ہے كہ ايك دوسرا پيغمبر آئے تاكہ وہ ان انحرافات و تحريفات كے پہلوۆں سے لوگوں كو آگاہ كرے اور گزشتہ دين كو ان آلودگيوں سے پاك كرے- البتہ اسلام ميں كامل طور پر يہ صلاحيت پائي جاتي ہے كہ وہ گزشتہ اديان كے تحريف شدہ آثار كو عياں كرديتا ہے- ليكن چونكہ اسلام كي دعوت كے آغاز كے دوران چونكہ انسان اپنے آثاركي تحرير و تدوين اور ان كي حفاظت پر قادر ہوچكا تھا لہٰذا مسلمانوں نے قرآن كو بلا كم و كاست اور بغير كسي تغير و تحريف كے محفوظ كرليا ساتھ ہي رسول اكرم (ص) اور ائمہ ہديٰ (ع) كے بہت سے اقوال و آثار آنے والي دنيا كے لئے بخوبي محفوظ كرلئے تھے چنانچہ اب كسي نئي دعوت يا كسي نئے پيغمبر كي آمد كي ضرورت باقي نہيں رہي-

3. مختلف انبياء (ع) كي آمد كے زمانہ ميں گمراہيوں اور كج رويوں كي نوعيت ميں فرق رہا ہے- مثلاً جناب موسيٰ (ع) اس معاشرہ ميں تشريف لائے جو ذلت و اسارت، سماجي بے نظمي، طاقت و حكومت كے فقدان اور ظلم و ستم كي زندگي كا عادي ہوچكا تھا، جس كا تقاضا يہ تھا كہ آپ ان لوگوں كو عزّت كي زندگي بسر كرنے، معاشرہ ميں قوت و طاقت حاصل كرنے اور ظلم كے خلاف مبازرہ و جدوجہد كرنے كي دعوت ديں- اس وجہ سے جناب موسيٰ (ع) كي دعوت ميں دنياداري اور دنياوي زندگي كے پہلو نيز خشونت و تندي كے آثار زيادہ نظر آتے ہيں- ليكن جناب عيسيٰ (ع) خونخوار، جنگجو اور وسعت طلب حكام و سرداروں كي كشاكش اور طاقت آزمائي نيز ماديات كي طرف شديد جھكاۆ، دنيا پرستي اور اموال كي لوٹ مار كے ماحول ميں لوگوں كي ہدايت كے لئے تشريف لائے تھے- اس وجہ سے آپ كي كوشش يہ تھي كہ لوگوں كومحبت و يگانگت، اپنے جيسے انسانوں سے الفت نيز ماديات سے كنارہ كشي زہدو تقويٰ اور معنويات كي جانب دعوت ديں- يہ اختلاف موحول اور حالات كي دگر گوني كي بنياد پر تھا جس سے انبياء كي تبليغ كے انداز اور روش ہدايت ميں خاصا فرق پيدا ہوگيا- اوراسلام چونكہ پورے عالم بشريت كي ہدايت كے لئے آيا اور كسي قوم و علاقہ سے مخصوص نہيں ہے لھٰذا اس كي دعوت كي نوعيت، اس كے اصول اور روش ہدايت كسي ايك جہت اور پہلو كي حامل نہيں ہے بلكہ وہ تمام اقوام و امم ميں ہر طرح كي ممكنہ گمراہي، كج روي اور افراط و تفريط پر ناظر ہے-

آية الله شہيد ڈاكٹر محمد جواد باہنر

مترجم: سيد احتشام عباس زيدي

(تنظيم و پيشكش گروہ ترجمہ سايٹ صادقين)

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

شان نبي  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اس کا تحفظ ( حصّہ ہفتم )