• صارفین کی تعداد :
  • 3305
  • 8/26/2012
  • تاريخ :

جہيز کي تاريخ کا سياہ ورق  

جہیز

 رسم جہيز پاکستان کے سماج کے ليے کسي زخم ناسور سے کم نہيں ، آج جہيز کے نام پر ملت کي بے گناہ بيٹيوں کو جس طرح ہراساں کيا جا رہا ہے، وہ انسانيت کا بڑا ہي شرمناک پہلو ہے- روزانہ صبح صبح آپ جب اخبار کي ورق گرداني کيجيے تو جلي حرفوں ميں دل دہلانے دينے والي سرخياں زينت نگاہ بنتي ہيں کہ فلاں جگہ کم جہيز لانے کے جرم ميں بدن پر تيل ڈال کر آگ لگا ديا گيا تو فلاں مقام پر گلا گھونٹ کر قتل کر ديا گيا اور فلاں جگہ جہيزي بھيڑيوں کي ايذا رساني سے تنگ آ کر عورت نے خود ہي موت کو گلے لگا ليا وغيرہ وغيرہ- آئے دن ايسے رونگٹے کھڑے کر دينے والے حادثات رونما ہو رہے ہيں اور دخترانِ ملت کي نسل کشي کا يہ سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے- اس راہ ميں نہ تو ملک کا قانون ان بے گناہوں کا مداوا ثابت ہو رہا ہے اور نہ ہي خود کو حقوقِ نسواں کے علم بردار کہے جانے والے ادارے اس کے وجود کو تحفظ فراہم کر رہے ہيں-  ہندوستان ميں جہيزي چيتا کي بھينٹ چڑھنے والي صنف نازک کي جو تعداد ہمارے سامنے ہے وہ کسي بھي ہوش مند اور حساس انسان کو تڑپا دينے کے ليے کافي ہے- ايک سروے کے مطابق ہمارے ہندوستان ميں روزانہ 19عورتيں جہيز کي بلي چڑھ رہي ہيں- 2005  کي رپورٹ کے لحاظ سے ہمارے ملک ميں ہر 77 منٹ پر ايک عورت جہيز کي سولي پر دم توڑ تي نظر آتي ہے- سرکاري ريکارڈ بيورو کي رپورٹ کے مطابق 2003 ميں 6208 عورتوں کو کم جہيز لانے کي پاداش ميں موت کے گھاٹ اتار ديا گيا- يوں ہي 2004 ميں ان بدنصيبوں کي تعداد 7026 اور2005 ميں 6787 ہے- واضح رہے کہ صوبہ اتر پرديش اس طرح کے دل سوز جرائم کي دنيا ميں سب سے آگے ہے- جہاں 2003 ميں 1322، 2004 ميں 1708 اور 2005 ميں 1564 عورتوں کو کم جہيز لانے کے جرم ميں موت کي نيند سلا ديا گيا- اتر پرديش کے بعد دوسرے نمبر پر صوبہ بہار کا نام آتا ہے ، اس کے بعد ان صوبوں کا نمبر آتا ہے: مدھيہ پرديش، آندھراپرديش، مہاراشٹر، راجستھان، کرناٹک، اڑيسہ، ہريانہ، تمل ناڈو وغيرہ جہاں اس طرح کے اموات کي شرح کچھ کم نہيں ہے- (روزنامہ راشٹريہ سہارا لکھنۆ- ايڈيشن 13مارچ 2007ءطپ)-اگر ہم مذکور ہ  اعداد  و شمار  کا  مقابلہ ماضي کے  ريکارڈ سے کرتے ہيں تو  ہميں  اس ميں حيرت انگيز  طور پر اضافہ ہوتا نظر آتا ہے کيوں کہ1977 اور 1978 ميں اس کے اموات کي شرح  5245  اور  1986 ميں 1396،  1987 ميں  1228، 1988  1990 ميں 11000اور   1998 ميں  1397اس طرح کے سامنے آئے تھے-

تحرير: صابر رہبر مصباحي

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ہمارے معاشرے ميں  جہيز ايک الميہ (حصّہ اوّل)