• صارفین کی تعداد :
  • 1311
  • 8/26/2012
  • تاريخ :

سراپا رہن عشق و ناگزير الفت ہستي

عبادت برق کي کرتا ہوں اور افسوس حاصل کيا

 مرزا غالب دہلوی

اس شعر ميں عشق کو برق اور ہستي و خرمن سے تشبيہ دي ہے کہتے ہيں رہن عشق بھي ہوں اور جان بھي عزيز ہے ميري دہائي ہے جيسے کوئي آتش پرست برق کي پرستش بھي کرے اور خرمن کے جل جانے کا افسوس بھي کرے ، پہلے مصرع ميں فعل ’ ہوں ‘ محذوف ہے حاصل کے معني خرمن - ناگزير اُلفتِ ہستي ہوں يعني جان کو عزيز رکھنے پر مجبور ہوں جس طرح يہ کہتے ہيں کہ فلاں امر ناگزير ہے يعني ضرور ہے اسي طرح فارسي ميں يوں بھي کہتے ہيں کہ فلاں شخص ارفلانِ  ناگزير است -

بقدر ظرف ہے ساقي خمار تشنہ کامي بھي

جو تو دريائے مے ہے تو ميں خميازہ ہوں ساحل کا

ساحل کي تشنگي مشہور ہے اور اس کا کج دوا کج ہونا خميازہ کي صورت پيدا کرتا ہے اور خميازہ خمار کي علامت ہے مطلب يہ ہے کہ شراب پلانے ميں جس قدر تيرا حوصلہ بڑھا ہوا ہے پينے ميں اُسي قدر ميرا ظرف بڑھا ہوا ہے -

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

سر سيد کے بچپن کے حالات