• صارفین کی تعداد :
  • 1137
  • 8/26/2012
  • تاريخ :

اکبر کا دورِ عقليّت مثنوي کي عرفاني اور وجداني روح کا متحمل نہ تھا

مولانا رومی

دسويں صدي کے آخر اور گيارھويں صدي کے شروع ميں رومي کي مثنوي ہندوستان ميں بھي باقاعدہ طور پر درس و تدريس ميں شامل ہو جاتي ہے مگر ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کا دورِ عقليّت مثنوي کي عرفاني اور وجداني روح کا متحمل نہ تھا -

 اس لئے  بظاہر مثنوي رومي اکبر کے  زمانے   کے  اہم مطالعات کے  دائرہ ميں  جگہ نہيں  پا سکي اور تعجب تو يہ ہے  کہ اس زمانے  کا شايد سب سے  با شعور مصنف ابو الفضل جو عقل کے  تصرّفات کا قائل ہوتے  ہوئے  عرفان اور وجدان کي برکتوں کا بھي معترف تھا ايک موقع پر مثنوي کے  کمياب ہونے  کي شکايت کرتا ہے- وہ جلال الدين اکبر کے  ساتھ ميدانِ پکھلي سے  گزر رہا ہے  اور فرصت کے  اوقات کو کسي علمي مشغلہ ميں  گزارنا چاہتا ہے - اور اس وقت اس کي طبيعت مطالعہ مثنوي کي طرف مائل ہے- مگر بدقسمتي سے  اسے  اس گرد و نواح  ميں  مثنوي کا کوئي مکمل نسخہ نہيں  ملتا - اس لئے  نا چار ابو بکر شاشي کے  انتخاب مثنوي ہي سے  کام چلاتا  ہے  اور اس  سے  اپنے  ذوق و حال کے  مطابق اشعار کا انتخاب کر ليتا ہے- اس سے  يہ قيا س ہو سکتا ہے  کہ اس زمانے  ميں  (کم از کم اس گرد و نواح ميں  ) مثنوي رومي شايد وقت کي مقبول ترين کتابوں  ميں  نہ تھي - بظاہر يہ بات تعجب خيز ہے  مگر يہ ديکھ کر کہ مثنوي کا مزاج ايک خاص نفسي کيفيت اور اجتماعي شعور کا مطالبہ کرتا ہے  اور بعض خاص ادوار ميں  اس کے  مطالعہ کي طلب اور ادوار کے  مقابلے  ميں  زيادہ ہوتي ہے- اس صورتِ حال پر کچھ زيادہ تعجب نہيں  ہوتا کہ اکبري دور ميں  مثنوي کا چرچا کيوں  کم ہو گيا تھا تاہم اکبري اور خصوصاً جہانگيري عہد اس معاملے  ميں  بالکل کورا بھي نہيں  اور آنے  والے  ادوار ميں  تو مثنوي کا ذوق اس قدر بڑھ جاتا ہے  کہ ہر طرف  اس کے  شارح اور فرہنگ نويس بہ تعدادِ کثير نکل آتے  ہيں-

چنانچہ گيارھويں صدي ہجري کے ہندوستان اور ايران ميں لکھي ہوئي شروحِ مثنوي کي فہرست خاصي طويل ہے- ان ميں عبد الفتاح المعاني (1049ھ) عبداللطيف عباسي (متوفي 1048ھ)کي لطائف المعنوي ، محمد رضا کي مکاشفات رضوي (تصنيف1084ھ)اور شرح شاہ عبدا لفتاح (متوفي 1090ھ)چند قابل ذکر کتابيں ہيں -

عبداللطيف عباسي کي کتاب معارف المعنوي مثنوي کي مکمل شرح نہيں- کيونکہ عباسي نے  صرف مشکل اشعار کي شرح کي ہے- جس ميں  عربي عبارتوں  اور قرآن مجيد کي آيتوں  کا ترجمہ بھي ہے- عبد اللطيف عباسي عہدِ شاہ جہاني کے  بزرگ تھے- انہوں  نے  عمر کا بيشتر حصہ مثنوي کے  مطالعہ ميں  صرف کيا اور ا س کے  مشکل الفاظ کا فرہنگ بھي مرتب کيا-

تحرير: ڈاکٹر سيد عبداللہ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

عالم اور صحبت امراء