• صارفین کی تعداد :
  • 681
  • 8/25/2012
  • تاريخ :

اسلامي بيداري کي تحريک ميں خواتين کا کردار بے مثال ہے

اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کا کردار

اس ميں شک نہيں کہ اسلامي عقيدے کي رو سے مختلف ميدانوں ميں خواتين کي موثر موجودگي ، مغربي معياروں سے بہت زيادہ مختلف ہے- مغرب ميں خواتين کو جس نظريئے سے

اس ميں شک نہيں کہ اسلامي عقيدے کي رو سے مختلف ميدانوں ميں خواتين کي موثر موجودگي ، مغربي معياروں سے بہت زيادہ مختلف ہے- مغرب ميں خواتين کو جس نظريئے سے ديکھا جاتا ہے وہ  ان کي حيثيت اور شخصيت کي نابودي  کا  سبب ہے -  معاشرے ميں مسلمان خواتين کي موجوگي کا  مثالي نمونہ  مغربي خواتين کي نام نہاد آزادي سے مختلف ہے - اہل مغرب اپني ثقافت ميں عورت کو مرد کي خدمت کا وسيلہ سمجھتے ہيں اور اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے ليے  تمام تر وسائل کو بروئے  کار  لاتے  ہيں   اور اپنے ان باطل انحرافي نظريات کو آزادي کا نام ديتے ہيں- ليکن اسلامي معاشرے ميں خواتين کي مستقل شناخت اور عزت وکرامت محفوظ رکھي گئي ہے - خواتين اسلامي اقدار پر بھروسہ کرتے ہوئے ہميشہ معاشرے ميں اپنا فعال کردار ادا کرتي رہي ہيں- اسي طرح جيسے ايران کي خواتين نے گذشتہ تين دہائيوں کے دوران ثابت کيا کہ وہ دنيا بھر خاص طور پرعالم اسلام ميں عزت وسربلندي ترقي و  پيشرفت کا مثالي نمونہ ہيں - آج  ايراني خواتين ترقي پيشرفت کے تمام شعبوں ميں عزت  وسرفرازي  کے ساتھ موجود ہيں  اور ايراني خواتين مومن ترين و  انقلابي  ہيں - ليکن مغرب تمام ترمنفي تشہيرات  باوجود ايراني خواتين کے اسلامي اقدار کو متاثر نہيں کيا  جا  سکا -  اس بنياد پر خواتين اسلامي ماحول ميں علمي ترقي وپيشرفت اور اپني ا خلاقي شخصيت کو محفوظ رکھي ہوئي ہيں   اور معاشرتي مسائل ميں ہميشہ صف اول ميں رہي ہيں   اور وہ عورت ہونے پر فخر کرتي ہيں - عالم اسلام کي موجودہ صورت حال اور خواتين پر پڑنے والے اثرات کو ديکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان خواتين اس راستے ميں نہايت ہي ہوشياري کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلط پسند نظام کي تمام تر سازشوں کا مقابلہ کرنے کي مکمل صلاحيت رکھتي  ہيں - مسلم خواتين اس وقت خود اعتمادي کي اس منزل پر جاپہنچي ہيں کہ نہ صرف اپنے ملکوں بلکہ امت مسلمہ  کي سرنوشت کے تعين ميں بھي اپنا  تاريخي کردار ادا کر سکتي ہيں - عورت کي شخصيت اور عزت و شرافت پر مبني حقيقي اسلام کے اقدار پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کي موجودگي اعلي ترين صورت ميں آشکارہ ہوگئي ہے اور ان انتہا پسند گروہوں کے برخلاف کہ جو خواتين کو ان کے ابتدائي اور انساني حقوق سے محروم کرکے معاشرے ميں ان کي حيثيت کو غير موثر ظاہر کرنے ميں کوشاں ہيں آج کي مسلم خواتين تمام ميدانوں ميں اپني علمي صلاحيتوں کو اجاگر کرنے اور تمام امور ميں خود فيصلہ کرنے کا عزم مصمم رکھتي  ہيں- اسلامي فضا ميں عورت کو علمي نشونما ميسر آتا ہے اور تعميري سياسي شخصيت ملتي ہے اور وہ   بنيادي ترين سماجي مسائل ميں ہراول دستے کا جز قرار  پاتي ہے- اس کے باوجود وہ  اپني تمام تر نسواني خصوصيات کے ساتھ ايک عورت ہي رہتي ہے اور اس پر فخر بھي کرتي ہے- اسلامي جمہوري ايران نے بھي عالم اسلام کي ترقي وپيشرفت ميں خواتين کي موجودگي کے روشن افق کے حوالے سے مثالي نمونہ پيش کيا ہے اور اس سلسلے ميں اسلامي اقدار اور تشخص کو ہميشہ ملحوظ خاطر رکھا گيا ہے-اسلامي بيداري کو انحراف سے دوچار کرنے کي تسلط پسندانہ پاليسيوں  کے خلاف  ہوشيار رہنے اور مقابلہ کرنے کي ضرورت ہے- اسي بنا ء  پر مسلم خواتين  کے تشخص کو لوٹانا   ايک اہم ترين  ذمہ داري   ہے کہ جس کي اسلامي بيداري کے عمل ميں  اہميت درک کرنے کي ضرورت ہے- مشرق وسطي اور شمالي افريقہ  کے عرب ممالک ميں  پے در پے رونما ہونے والي تبديليوں اور اسلامي بيداري کي اٹھنے والي لہر ميں خواتين کا کردار ايک ناقابل انکار امر ہے  دوسري جانب  يہ تبديلياں  ان ملکوں ميں خواتين کي مستقبل کي زندگي ميں مختلف شعبوں ميں بہت زيادہ موثر ہيں-   ان تبديليوں کے بنيادي عنصر کے طور پر خاندان اور کنبے ميں خواتين کے محوري اور بنيادي کردار کے پيش نظر علاقے ميں رونما ہونے والي تبديليوں  ميں خواتين کے کردار کا جائزہ لينا ضروري ہے-

تہران ميں منعقدہ خواتين اور اسلامي بيداري کے زير عنوان بين الاقوامي اجلاس اختتام پذير ہو گيا - خواتين اور اسلامي بيداري کا پہلا بين الاقوامي اجلاس منگل دس جولائي کو شروع ہوا  جو دو روز تک جاري رہا اس اجلاس ميں دنيا بھر سے مختلف شعبوں منجملہ ثقافتي ، سماجي  ، سياسي اور  ذرائع ابلاغ  ميں سرگرم اور فعال بارہ سو سے زائد دانشور اور اسکالرخواتين نے شرکت کي-تہران  کے اجلاس ميں دنيا کے دور دراز علاقوں سے آئي ہوئي خواتين نے مختلف  موضوعات پر  اپنے اپنے خيالات کا  اظہار کيا- مجموعي طور پر سب نے اس مسئلے پر تاکيد کي کہ اسلامي اقدار اور  پردے کي حفاظت نہ صرف سياسي اور سماجي ميدانوں ميں ان کي موثر موجودگي پر اثر انداز ہونگي بلکہ ان کي ترقي و پيشرفت کي  راه  ہموار کرے گي-  جيسا کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي نے ثابت کر دکھايا ہے کہ ديني تعليمات کے پرتو ميں اسلامي معاشروں کا کھويا ہوا ديرينہ عزت و اقتدار اور وقار لوٹايا جاسکتا ہےاور عزت ووقار کے ساتھ اسکا دفاع کيا جاسکتا ہے- اسي بنياد پر خواتين اور اسلامي بيداري اجلاس کے اختتامي بيان ميں خاندان اور کنبے ميں عورت کي مضبوط پوزيشن اور کنبے ميں بچوں کو تربيت دينے ميں عورتوں کے انفرادي کردار کي ارتقاء پر' خواتين کے اہم ترين مطالبات کي حيثيت سے خاص توجہ دي گئي –

اس اجلاس ميں دنيا کے پچاسي ملکوں سے مختلف مذاہب اور قوموں سے تعلق رکھنے والي خواتين نے حصہ ليا  تاکہ علاقے ميں حاليہ دنوں ميں رونما ہونے والي تبديليوں اور اسلامي بيداري کي اٹھنے والي لہر ميں خواتين کے موثر کردار ، اور خواتين کو درپيش اہم ترين چيلنجوں اور مضمرات کا جائزہ ليں اور فکري ہم آہنگي کے ساتھ علمي ، سماجي ،اور سياسي شعبوں ميں مسلم خواتين کي موجودگي کا ايک مناسب نمونہ پبش کريں -  اس اجلاس کے چھ کميشنوں ميں "فکر اسلامي' بيداري اسلامي'انقلابي عمل" "خواتين اور اسلامي بيداري 'مواقع اور چيلنجزاور ان سے مقابلے کي روشيں" "خواتين اور اسلامي بيداري 'تجربات اور کارنامے 'حقوق اور ان کے مطالبات" "خواتين اور اسلامي بيداري 'اور تعلقات عامہ" "خواتين اور اسلامي بيداري 'اور کنبوں ميں انقلابي روح پيدا کرنا " " خواتين اور اسلامي بيداري اور مستقبل کي تبديليوں کا افق " جيسے مسائل پر پانچ سو سے زيادہ مقالوں اور مضامين کا جائزہ ليا گيااور اجلاس کے اختتام پر ان کميشنوں کے مجموعي نتائج کي بنياد پر اختتامي بيان جاري کيا گيا - خواتين اور اسلامي بيداري اجلاس ميں حاضر خواتين نے حاليہ رونما ہونے والي سماجي تبديليوں کواسلامي معاشروں ميں عورت کے کردار کي تقويت کا سبب قرار ديا اورتاکيد   کي کہ عوامي تحريکوں ميں خواتين کي موثر شرکت اور اسلامي بيداري تحريک کے  دوام اور اسکے تحفظ کي ضرورت اس بات کا تقاضا کرتي ہے کہ سماجي ، ثقافتي ، سياسي اور معاشي شعبوں ميں خواتين کي صلاحيتوں اور استعداد سے بھر پور فائدہ اٹھايا جائے-

جاری ہے

تحرير: ڈاکٹر محمد کيومرثي

پیشکش : شعبہ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ  تحريريں:

16 مارچ 1997ء کو بدھوں کے مظاہرين نے مسلمانوں کي مسجد کو آگ لگا دي

1845 عيسوي ميں برما مسلم کانگريس کا قيام عمل ميں آيا

برما کے مسلمانوں  پر ظلم کي داستان کوئي نئي نہيں ہے

جون 2012ء ميں’’ٹونگوپ‘‘ نامي شہر ميں بدھوں نے مسلمانوں کو قتل کيا