• صارفین کی تعداد :
  • 4688
  • 8/5/2012
  • تاريخ :

تاريخِ حديث

تاریخ حدیث

قرآن مجيد کے بعد حديث کا ذکر ناگزير ہے، اس ليے کہ يہي دو چيزيں ہيں جو اسلام کا محور ہيں- شايد يہ نامناسب نہ ہوگا اگر ميں شروع ہي ميں تاريخ کے اس پہلو پر نظر ڈالوں کہ حديث کي اہميت کيا ہے اور يہ کہ حديث اور قرآن کا ايک دوسرے کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے؟ ظاہر ہے کہ قرآن مجيد ميں اور کچھ نہيں تو دس پندرہ جگہ صراحت کے ساتھ مسلمانوں کو حکم ديا گيا کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کي بات مانو مثلاً "ماآتاکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا" (جو تمہيں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم دے ديں اسے لے لو اور جس سے وہ تمہيں منع کريں اس سے رک جاۆ- 7:59) اس سے بھي زيادہ زوردار صراحت کے ساتھ ايک اور آيت ہے: "من يطع الرسول فقد اطاع اللہ" (جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کي اطاعت کرتا ہے وہ گويا خدا کي اطاعت کرتا ہے- 80:4)  تو يہ آيت نيز اس طرح کي دوسري آيتيں ہميں بتاتي ہيں کہ قرآني تصور ميں حديث کوئي کم درجے کي چيز نہيں بلکہ ايک لحاظ سے اس کا درجہ قرآن کے برابر ہي ہے- فرض کيجئے کہ ايک سفير کسي بادشاہ کي طرف سے دوسرے بادشاہ کے پاس ايک خط لے کر جاتا ہے-

ظاہر ہے کہ خط ميں زيادہ تفصيليں نہيں ہوں گي ليکن جس مسئلے کے ليے سفير بھيجا جاتا ہے اس مسئلے پر جب گفتگو ہوگي تو سفير کا بيان کيا ہوا ہر ہر لفظ بھيجنے والے بادشاہ ہي کا پيغام سمجھا جائے گا-

اس مثال کے بيان کرنے سے ميرا منشاء يہ ہے کہ حقيقت ميں حديث اور قرآن ايک ہي چيز ہيں دونوں کا درجہ بالکل مساوي ہے- ايک مثال سے ميرا مفہوم آپ پر زيادہ واضح ہوگا- فرض کيجئے کہ آج رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم زندہ ہوں اور ہم ميں سے کوئي رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کي خدمت ميں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرے اور اس کے بعد رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم سے مخاطب ہو کر يہ جاہل شخص اگر کہے کہ يہ تو قرآن ہے خدا کا کلام، ميں اسے مانتا ہوں مگر يہ آپ کا کلام ہے اور حديث ہے يہ ميرے ليے واجب التعميل نہيں ہے، تو اس کا نتيجہ يہ ہوگا کہ فوراً ہي اس شخص کو امت سے خارج قرار دے ديا جائے گا اور غالباً اگر حضرت عمر رضي اللہ تعاليٰ عنہ وہاں پر موجود ہوں تو اپني تلوار  کھينچ کر کہيں گے يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم اجازت ديجئے کہ ميں اس کافر و مرتد کا سر قلم کر دوں-

غرض رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کي موجودگي ميں يہ کہنا کہ يہ آپ کي نجي بات ہے اور مجھ پر واجب العمل نہيں ہے گويا ايک ايسا جملہ ہے جو اسلام سے منحرف ہونے کا مترادف سمجھا جائے گا-

 اس لحاظ سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم جو بھي ہميں حکم ديں اس کي حيثيت بالکل وہي ہے جو اللہ کے حکم کي ہے- فرق دونوں ميں جو کچھ ہے وہ اس وجہ سے پيدا ہوا ہے کہ قرآن مجيد کي تدوين اور قرآن مجيد کا تحفظ ايک طرح سے عمل ميں آيا ہے اور حديث کي تدوين اور حديث کا تحفظ دوسري طرح سے- اس ليے تحقيق اور ثبوت کا مسئلہ پيدا ہو جاتا ہے- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کي موجودگي ميں تو ثبوت کا کوئي سوال نہيں تھا- حضور صلي اللہ عليہ و سلم کي زبان مبارک سے جو بھي ارشاد ہوا وہ يقيني طور پر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کا حکم تھا- ليکن بعد کے زمانے ميں يہ بات نہيں رہتي- ميں ايک حديث سن کر آپ سے بيان کرتا ہوں- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم تو بالکل سچے ہيں ليکن ميں جھوٹا ہو سکتا ہوں- مجھ ميں انساني کمزوري کي وجہ سے خامياں ہوں گي- ممکن ہے ميرا حافظہ مجھے دھوکہ دے رہا ہو- ممکن ہے مجھے غلط فہمي ہوئ ہو- ممکن ہے ميں نے غلط سنا ہو- کسي وجہ سے مثلاً دھيان کم ہو جانے کي وجہ سے يا کوئي چيز حرکت ميں تھي اس کے شور کي وجہ سے ميں نے کوئي لفظ نہيں سنا تو خلط مبحث پيدا ہو گيا- غرض مختلف وجوہ سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کے بعد حديث يعني رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کے احکام کا دوسروں تک ابلاغ اتنا يقيني نہيں رہتا جتنا قرآن کا يقيني ہے-

مصنف : ڈاکٹر مرتضيٰ مطھري

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

مسجد النبي ميں نماز