• صارفین کی تعداد :
  • 1066
  • 5/30/2012
  • تاريخ :

 اقتصادي پابنديوں کا مقابلہ بہتر معاشي حکمت علمي سے ممکن ہے

اقتصادی پابندی

سن 1979 ء ميں ايران کے اندر آنے والے اسلامي انقلاب نے جہاں غاصب عالمي طاقتوں کے ليۓ خطرے کي گھنٹياں بجا ديں وہيں مظلوم قوموں کو اميد کي کرن بھي دکھائي - اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ملک کے اندر ايک نۓ سياسي نظام کو متعارف کروايا گيا  - يہ ايسا سياسي نظام  ہے جو جمہوري اور روحاني اقدار کا احترام کرتا ہے - پچھلي تين دہائيوں سے دنيا کي بڑي طاقتيں ايران کے خلاف مختلف طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہي ہيں تاکہ اس عظيم قوم کو سرنگوں کرکے اس پر اپنا نظام مسلط کيا جاۓ مگر اسلامي جمہوريہ ايران نے ان طاقتوں کے ہر حملے کو ناکام بنايا ہے اور ان کي سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوۓ آج ملک و قوم کو  ايک باوقار قوم کي حيثيت سے دنيا بھر ميں متعارف کروايا ہے -  

دنيا کي مختلف اقوام اور حکومتيں ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي سے بےحد متاثر ہيں - اسلامي جمہوريہ ايران ميں انقلاب کي وجہ سے مشرق وسطي ميں بھي بہت سي انقلابي تحريکوں نے جنم ليا ہے -

انقلاب کے بعد سے لے کر آج تک بہت علاقائي ممالک نے بھي  انقلاب کي کاميابيوں کے خلاف سازشيں کرتے ہوۓ ايراني قوم کي آزادي اور حقوق کو سلب کرنے کي کوشش کي ہے - ان کي سازشيں غالبا اس وقت تک  جاري رہيں گي جب  تک ايران اپنے قومي حقوق سے دستبردار نہيں ہو جاتا  - ايراني قوم اپنے بنيادي حقوق سے کبھي بھي دستبردار نہيں ہو گي اور اپنے حقوق کے حصول کے ليۓ ہر طرح  سے مزاحمت کرے گي -

اسلامي جمہوريہ کو نقصان پہنچانے کے ليۓ اس پر جنگ مسلط کي گئي - جب جنگ ميں انہيں منہ کي کھانا پڑي تو  اقتصادي ميدان ميں ملت ايران کو نقصان پہنچانے کے کوششوں کا آغاز ہو گيا - ليکن اقتصادي دباؤ کے باوجود ايران کي سائنسي ، ثقافتي ، تعليمي اور معاشي ميدان ميں  ترقي  بڑے بھرپور انداز سے جاري ہے - 

سن 1952 ء جس طرح امريکہ نے برطانوي وزيراعظم  چرچل کے کہنے پر  ايران ميں منتخب حکومت کو گرايا تھا اسي طرح موجودہ دور ميں بھي بين الاقوامي طاقتيں ايران کو اقتصادي اعتبار سے نقصان پہنچانے کے ليۓ کوشاں ہيں -

اسلامي جمہوريہ ايران کو درپيش معاشي مسائل کے حل کے ليۓ ضروري ہے کہ ايک نيا معاشي ايجنڈا تشکيل ديا جاۓ جس کي رو سے  اقتصادي پابنديوں کو نئي راہيں تلاش کرنے کے ليۓ موقع سمجھنا چاہيۓ  - ايسا کرنے سے ايران کا تيل سے حاصل ہونے والي آمدني پر انحصار کم سے کم ہو گا اور معاشي لحاظ سے ترقي کرنے کے مزيد مواقع ميسر آئيں گے - ايران کي معيشت کو ايک مزاحمتي معيشت کے طور پر ابھر کر بين الاقوامي طاقتوں کي طرف سے لگائي جانے والي اقتصادي پابنديوں کا سامنا کرنا چاہيۓ -  اقتصادي لحاظ سے ہماري يہ مزاحمت بالآخر ايک دن ہماري کاميابي ميں بدل جاۓ گي -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان