• صارفین کی تعداد :
  • 1585
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 3

امام علی علیہ السلام

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 1

ولايت علي عليہ السلام کي معرفت 2

بقلم حميد قرباني

... اور ابتداء سے ہي صحابہ اس حقيقت کے معترف تھے اور پھر رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا يہ کلام ـ‌ القرآن مع علي (ع) ـ بھي اس حقيقت کا شاہد ہے کہ قرآن مجيد خود علي عليہ السلام کي عظمتوں کا گواہ ہے- (4) يہ نکتہ بھي نزول قرآن کے آغاز سے ہي کسي پر مخفي نہ تھا- پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمايا: "خداوند متعال نے کوئي بھي آيت نازل نہيں فرمائي جس ميں "يا ايها الذين آمنوا (اے ايمان لانے والو)" کا جملہ ہو مگر يہ کہ علي عليہ ان (ايمان والوں) کے سب سے اونچے مقام و مرتبے پر فائز نہ ہوں اور ان کے امير اور شريف نہ ہوں"- (5)

عبداللہ بن عباس جو قرآن کے عظيم مفسر اور اہل سنت کے ہاں "حبرالامۃ" کے نام سے مشہور ہيں، کہتے ہيں: "قرآن ميں کوئي بھي آيت ايسي نہيں ہے جس ميں "يا ايها الذين آمنوا" کا جملہ ہو اور علي عليہ ان (ايمان والوں) کے سب سے اونچے مقام و مرتبے پر فائز نہ ہوں اور ان کے امير اور شريف نہ ہوں؛ خداوند متعال نے قرآن ميں محمد (ص) کے اصحاب کي ملامت اور سرزنش کي ہے اور علي عليہ السلام کا ذکر نيکي کے سوا نہيں فرمايا ہے- (6)

ابن عباس کہتے ہيں: کسي کے بارے ميں علي عليہ السلام جتني قرآني آيات نازل نہيں ہوئي ہيں- (7)

حذيفہ بن يمان کہتے ہيں: قرآن مجيد ميں کوئي بھي نازل نہيں ہوئي جس ميں "يا ايها الذين آمنوا (اے ايمان لانے والو)" کا جملہ آيا ہو مگر يہ کہ علي عليہ السلام اس کا مرکزہ اور مغز ہيں"- (8)

مجاہد نے کہا: "علي عليہ السلام کي شان ميں قرآن مجيد کي ستر آيتيں نازل ہوئي ہيں اور ان آيتوں ميں کوئي بھي دوسرا ان کے ساتھ شريک نہيں ہے"- (9)

-------------

مآخذ:

4. دانش کتاب 10/53-

5. تفسير عياشي 1/281-

6. فضائل الصحابه 2/654-

7. تاريخ الخلفا 203-

8. شواهل التنزيل 1/63/67-

9. شواهد التنزيل 1/52/50-