• صارفین کی تعداد :
  • 1430
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 7

امام علي عليہ السلام

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 3

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 4

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 5

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 6

ايت اللہ العظمي حسين مظاہري

--- يہ حقيقت شيعہ مفسرين و محدثين مسلّمہ اور متفق عليہ ہے اور صاحب "الغدير" علامہ عبدالحسين اميني نے اہل سنت کے 20 اکابرينِ علماء سے اور ہر ايک سے مختلف طريقوں اور حوالوں سے نقل کيا ہے کہ يہ آيت شريفہ امير المۆمنين علي عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے، جب آپ (ع) نے رکوع کي حالت ميں سائل کو انگشتري عطا فرمائي- [11] حتي کہ اہل سنت کے بعض مفسرين نے ـ خاص قسم کے تعصب کے باوجود ـ اس بات کا اقرار کيا ہے کہ "مفسرين کا اجماع ہے کہ يہ آيت شريفہ امام علي بن ابي طالب عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے-

جيسا کہ اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ اس آيت شريفہ ميں ولايت سے مراد کم از کم "ولايت تشريعي" ہے، يعني لوگوں پر "حکومت الہيہ"، ليکن يہ کہ کہا جائے کہ ولايت سے مراد "محبت"، "نصرت" يا اس طرح کے ديگر مفاہيم ہيں، تو يہ ايک طرف سے تو الفاظ کا کھيل ہے بلکہ يہ لوگوں کے وجدان، فہم و ادراک اور فکر و شعور کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے بلکہ دوسري طرف سے يہ آيت کي ابتداء ميں "انما" کے لفظ سے بھي متصادم ہے- آيت شريفہ کو غور سے ديکھا اور سمجھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خداوند متعال ذاتي اور استقلالي طور پر "ولايتِ تشريعي" اور "ولايتِ تکويني" کا مالک ہے، اسي خدا نے تبعي اور غيرذاتي طور پر يہي ولايت رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور اميرالمۆمنين سلام اللہ عليہ کو بھي عطا فرمائي ہے-

يہاں ايک بات کي يادآوري کرانا ضروري ہے اور وہ يہ کہ شيعہ اور سني کو اس حقيقت کي طرف توجہ ديني چاہئے کہ اللہ اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي طرف سے اہل بيت عليہم السلام اور خاص طور پر اميرالمۆمنين سلام اللہ عليہ کي ولايت کو جو اہميت دي گئي ہے اس کا انکار ممکن نہيں ہے----

.............

مآخذ:

11-‌ الغدير، ج 2، ص 52-