• صارفین کی تعداد :
  • 1971
  • 3/22/2012
  • تاريخ :

اذان ميں ولايت علي عليہ السلام کي شہادت کيوں 1

عید غدیر

سوال: شيعيان آل محمد (ص) اذان ميں ولايت علي (ع) کي شہادت کيوں ديتے ہيں؟

جواب: شيعيان آل محمد (ص) نماز ميڑ اللہ کي الوہيت اور محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت کي گواہي دينے کے بعد علي عليہ السلام کي ولايت کي گواہي ديتے ہيں اور يہ سنت تمام شيعہ اقوام و ممالک ميں مشہود اور دنيا کے تمام گوشوں ميں مشہور ہے-

1- فقہائے آل محمد (ص) شہادت ثالثہ (اشہد ان عليا ولي اللہ) کو جزوِ اذان نہيں سمجھتے چنانچہ جب اذان کو اٹھارہ فصول پر مشتمل قرار ديتے ہيں- جو مندرجہ ذيل فصول پر مشتمل ہيں:

چار مرتبہ اللہ اکبر ـ دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ  ـ دو مرتبہ اشہد ان محمداً رسول اللہ عليہ و آلہ و سلم ـ دو مرتبہ حي علي الصلواة ـ دو مرتبہ حي علي الفلاح ـ دو مرتبہ حي علي خيرالعمل ـ دو مرتبہ اللہ اکبر ـ دو مرتبہ لا الہ الا اللہ-

2- اگر کوئي شخص تيسري شہادت اذان کا جزہ سمجھ کر اذان ميں ادا کي تو وہ کار حرام اور گناہ کا مرتکب ہوا ہے-

3- اذان ميں تيسري شہادت وجوب کا قصد کئے بغير ادا کرنا مستحب ہے اور اس استحباب کي دو بنياديں ہيں-

الف: علي عليہ السلام قرآن مجيد اور حديث رسول اللہ (ص) کي گواہي کے مطابق اللہ کے ولي ہيں-

ب: امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: ہرگاہ تم پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت کي گواہي ديتے ہو علي (ع) کي ولايت پر بھي گواہي دو-

پہلے اصول اور پہلي دليل کے اثبات کے لئے غدير کي متواتر حديث اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے منقولہ ديگر متواتر احاديث سے ثابت ہے کہ علي عليہ السلام اللہ کے ولي ہيں؛ ان ہي احاديث ميں سے ايک کے ضمن ميں رسول اللہ (ص) فرماتے ہيں: يا عليّ أنت وليّ كلّ مۆمن بعدي،[1] اے علي (ع)! آپ ميرے بعد ہر مۆمن کے ولي و سرپرست ہيں-

----------

مآخذ

1-  كنزالعمال:6/396، حديث 6048.


متعلقہ تحريريں:

ماہ محرم الحرام کے مراقبات 7