• صارفین کی تعداد :
  • 1463
  • 3/20/2012
  • تاريخ :

عزت کي موت يا ذلت کي زندگي؟ 2

عاشوره

عزت کي موت يا ذلت کي زندگي؟ 1

وہ موت جو ذلت آميز زندگي سے بہتر ہے

ليکن اگر ظلم و ذلت قبول کرنے کا مسئلہ ہجرت سے بھي حل نہ ہو تو کيا کيا جائے؟ اگر ظلم و جبر کي مشينري اور جابرحکمران اپنے تسلط کي وسعت اور اپني ہمہ جہت طاقت کے ذريعے مۆمن کو دو راہے پر لاکھڑا کرديں کہ يا ذلت قبول کرے يا پھر شہادت کو قبول کردے تو اس کو کيا کرنا چاہئے اور ان دو راہوں ميں سے کونسي راہ پر گامزن ہونا چاہئے-

امام حسين عليہ السلام نے اس سوال کا بارہا جواب ديا ہے-

جواب دوران سفر

سيدالشہداء عليہ السلام کا جواب متن و کلام کے دائرے سے نکل کر لباس عمل پہن ليتا ہے تا کہ سب جان ليں اور اپني آنکھوں سے ديکھ ليں کہ جو کچھ اسلام کے امام و پيشوائے بر حق کہتے ہيں سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل کرتے اور اپنے آپ کو اس فريضے کا پابند سمجھتے ہيں- (1)

تاريخ طبري ميں عقبة بن ابى عيزار کے حوالے سے منقول ہے:

حسين عليہ السلام نے ذى حُسُم (2) کے مقام پر حمد و ثنائے الہي کے بعد فرمايا: "امور و معاملات کچھ ايسے ہيں کہ آپ ديکھ رہے ہيں! دنيا بدل گئي ہے اور بھونڈے پن کي طرف مائل ہوگئي ہے- اس کي خير و نيکي رخصت ہوگئي ہے اور مسلسل بد سے بدتر ہورہي ہے اور اس ميں سے کچھ بھي نہيں رہا سوائے قليل کے، ايک برتن کي تہہ ميں پاني کے قطرے کي مانند اور ايک ناچيز معاش کے سوا، جو بےگھاس کي چراگاہ کي مانند ہے-

...................

مآخذ:

1- اميرالمومنين عليہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمايا: "وَ اللَّهِ مَا أَمَرْتُكُمْ بِطَاعَةِ إِلَّا وَ قَدْ ائْتَمَرْتُ بِهَا وَ لَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ إِلَّا وَ قَدِ انْتَهَيْتُ عَنْهَا"؛ خدا کي قسم! ميں نے تم کو جو بھي حکم ديا خود بھي اس پر عمل کيا اور جس چيز سے بھي ميں نے روکا خود بھي اس سے اجتناب کيا- "تأويل الآيات الظاهرة في فضائل العترة الطاهرة ص124"-

2- منطقه اي که مختصات آن به شکل تقريبي در غرب بصره و جنوب کربلا قرار دارد.