• صارفین کی تعداد :
  • 2064
  • 6/11/2012
  • تاريخ :

 داخلي اور خارجي خطرات

بسم الله الرحمن الرحیم

سوّم - جس طرح ستارے کبھي داخلي اور کبھي خارجي آفات کا شکار ہو جاتے ہيں يا کبھي اندر سے بھڑک اٹھتے ہيں تو کبھي باہر سے  تو  يہي حالت ارواح کي بھي ہوتي ہے - بہرحال اندروني آتش  کا علاج اور اس پر قابو پانا نہايت ہي مشکل کام ہے - معنوي امور ميں بھي يہي حالت ہے کہ بعض اوقات انسان باہر سے  تکليف اٹھاتا ہے اور کبھي اندر سے - آگ باہر سے جسم پر اثر انداز ہوتي ہے اور ہم سب بڑي اچھي طرح سے اس  آگ اور اس سے راہ فرار جانتے ہيں ليکن   داخلي طور پر لگي آگ ہماري جان اور روح کو جلا ديتي ہے - ہماري جان اپنے اندر يا تو آتش پيدا کرنے کے وسائل رکھتي ہے يا  انشاءاللہ  اس کے ساتھ نور ہوتا ہے -

اللہ تعالي کي پاک ذات نے قرآن مجيد کے اندر جسم و جان کے جلنے کے بارے ميں ارشاد فرمايا ہے - جسم کے جلنے کے بارے ميں ارشاد ہے کہ

أمّا القاسطون فکانوا لجهنّم حطبا).

بعض جہنم کو جلانے والي لکڑي ہوتے ہيں -

قاسط يعني اھل قَسط اور قَسط کو ظلم و جور کے معني ميں ليا گيا ہے -  يہ لفظ دوسرے لفظ قِسط  کے مقابلے ميں عدل و ميانہ روي  کے معنوں ميں آتا ہے -

قرآن مجيد ميں ارشاد رباني ہے -   جس کا مفہوم يہ ہے کہ

ظالم جنہم کو جلانے والي لکڑي ہيں اور يہ خود جہنم کو جلانے کے ليۓ وسائل مہيا کرتے ہيں اور جہنم کي آگ کا خام مال ہيں -

اگر ہمارے دوستوں ميں سے کوئي  اولمپک ميں کامياب ہو گيا اور ہم نے کہا کہ اے خدا تيرا شکر ہے - اے خدا ! اس کو اور توفيق دے اور ہميں بھي توفيق دے کہ اس جيسا يا اس سے بہتر بن جائيں اور اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لائيں - ہميں يہ جان لينا چاہيے کہ ايسا کرنے سے ہمارے وجود کے اندر چوہے ( دل کا چور ) نے رسائي حاصل نہيں کي ہے  ليکن اس کے برعکس ہم نے کسي کے متعلق بدگوئي کي يا اس پر تھمت لگائي تو پھر جان لو کہ چوہے کو ہمارے وجود کے ذخيرہ تک رسائي حاصل ہو گئي ہے اور يہ چوہا ہمارے اعمال کو اندر سے گلا  کر ختم کر دے گا  -

بعض لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں جو اپنے اندر  آگ توليد کرتے ہيں - قرآن ايسے لوگوں کو  «وقود» کہتا ہے - ايسے لوگ کفر کے رہبر اور امام ہوتے ہيں جو  جن کے بارے ميں اللہ تعالي کا ارشاد ہے کہ

(وقودها الناسُ و الحجارة).

يہ آتش زن اور آتش گير ہيں اور اپنے اندر آگ ليۓ ہوۓ ہيں -

روح اور جان کے متعلق بھي ارشاد ہے کہ

بعض لوگوں کےدل يوں ہوتے ہيں  -

نار اللّهِ المُوقدَةُ * الّتي تطّلع علي الأفئدةِ)

ترجمہ : وہ اللہ کي بھڑکائي ہوئي آگ ہے،جو دلوں تک پہنچ جائے گي -

تحرير : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان