• صارفین کی تعداد :
  • 1845
  • 3/17/2012
  • تاريخ :

سيدالشہداء کے لئے گريہ و بکاء کے آثار و برکات 4

محرم الحرام

اب ديکھنا يہ ہے کہ امام حسين عليہ السلام کے لئے گريہ و بکاء کي نوعيت کيا ہے؟ تھوڑي سي توجہ سے ہي يہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ سيدالشہداء کے لئے گريہ محبت کا گريہ ہے- وہ محبت جو سيدالشہداء کے عاشقوں کے دلوں پر ثبت ہوئي ہے- سيدالشہداء کے لئے گريہ گريۂ شوق ہے کيونکہ کارنامۂ کربلا کے اکثر واقعات شوق آفرين ہيں اور جوش و خروش پيدا کرديتے ہيں اور کربلا کے مردوں اور خواتين کي اس قرباني، اس عظمت و کمال عقليت اور غروج قرباني و ايثار اور بظاہر اسير مردوں اور خواتين کے آتشين خطبوں کو ديکھ کر اور سن کر اور ان کي ياد تازہ کرکے، جس کے بعد اشک شوق کا سيلاب جاري ہوتا ہے اور يہ گريہ درحقيقت معرفت کا گريہ اور ان کے اعلي انسان ساز ہدف اور مکتب سے پيوند اور تجديد عہد کا گريہ ہے اور مجدد اعظم حضرت امام خميني رحمۃ اللہ عليہ کے ارشاد کے مطابق: "امام حسين عليہ السلام کے لئے گريہ سياسي گريہ ہے"، فرماتے ہيں: "ہم سياسي گريہ کرنے والي ملت ہيں، ہم وہ ملت ہيں کہ ان ہي اشکوں سے سيلاب جاري کرتے ہيں اور ان بندوں کو توڑ ديتے ہيں جو اسلام کے سامنے کھڑے کئے گئے ہيں"-

 امام خمينى رحمۃ اللہ عليہ فرماتے ہيں کہ "گريہ اور بکاء سياسي ہے" : "ہم سياسي گريہ و بکاء کرنے والي ولت ہيں، ہم ايسي ملت ہيں جو ان ہي اشکوں سے سيلاب جاري کرتے ہيں اور اسلام کے سامنے  کھڑے کئے گئي بندوں کو توڑ ديتے ہيں"-

هزار سال فزون شد ز وقعه عاشورا

ولى ز تعزيه هر روز، روز عاشور است‏

ہزار سال سے بھي زيادہ گذرے واقعہ کربلا سے

ليکن تعزيہ حسين کي وجہ سے ہر روز عاشورا ہے

ہيہات کہ حسين (ع) پر گريہ، ذلت اور شکست کا گريہ ہو، يہ گريہ تو عزت کے سرچشمے سے اتصال اور پيوند کا گريہ ہے- يہ بندگي اور غلامي کا گريہ نہيں ہے، خاموشي کا گريہ نہيں بلکہ يہ گريہ بولتا گريہ ہے .

تحرير : ف ح مهدوي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

 آئمہ اطہار کي نظر ميں يوم عاشورا کي اہميت