• صارفین کی تعداد :
  • 1918
  • 3/3/2012
  • تاريخ :

  انسان کي زندگي ميں مذھب کي ضرورت ( حصّہ پنجم )

بسم الله الرحمن الرحیم

زندگي کے مسائل حل کرنے ميں مذھب کي ضرورت

مذھب انسان کي زندگي کے ہر ميدان ميں رہنمائي کرتا ہے اور انسان کو درپيش مسائل کا قابل اعتماد حل پيش کرتا ہے -  مذھب سے وابستہ ہونے کے بعد انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے حقيقي خالق کو پہچان سکے اور  اور خدا سے وابستہ ہو کر انسان کو اطمينان قلب نصيب ہوتا ہے - ايک مصنف کے مطابق  يہ ممکن ہے کہ مذھب کسي  سائينسي مضمون کا درس نہ ہو ، مذھب شايد فزکس اور کيمسٹري کا درس نہ ہو  جس سے انسان کي آساني کے ليۓ نت نئي اختراعات سامنے آتي ہيں مگر مذھب کي وجہ سے انسان نے اس راستے پر قدم بڑھايا ہوتا ہے جو اس کي  زندگي ميں آرام ، سکون اور رفاہ لاتا ہے -

مذھب انسان کي زندگي ميں ايک اعتدال  لا کر دنياوي اور اخروي زندگي کے رشتے ميں ايک پيوند لگا  سکتا ہے - مذھب انسان کے وجود ميں ايک تحرک ايجاد کرتا ہے تاکہ  وہ اپني بقا  کي پختگي کے ليۓ غورو خوض کرے  اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے ليۓ راستے تلاش کرے - انسان درحقيقت دو  قوتوں کے درميان گرا ہوا ہوتا ہے جن ميں سے ايک  خوبي اور نيکي کي دعوت ديتي ہے اور انصاف ، مساوات ، محبت  اور بخشش کا درس ديتي ہے -

انسان ہميشہ خوش بختي کا طلب گار ہوتا ہے ليکن خوش بختي کو حاصل کرنے کے ليۓ انسان کو کون سا راستہ اختيار کرنا چاہيۓ ؟ يہ ايک سوال ہے جس کے بہت سے جوابات بھي پيش کيے گۓ ہيں - بعض نے عقل کو تجويز کيا ہے ، کچھ نے تجربہ کو اور کچھ نے علم کو ليکن  يہ سب راستے آزماۓ گۓ مگر کسي بھي مثبت نتيجے پر نہيں پہنچ سکے - 

جس راستے کا انتخاب صاحب نظر لوگوں اور علماء نے کيا ہے ، وہ يہ ہے کہ کمال مقاصد کے حصول کے ليۓ صرف واحد راستہ مذھب کے ساتھ وابستہ ہونے کے بعد ہي سامنے آتا ہے مگر ايسا مذھب جو خرافات سے پاک ہو - وہ مذھب جسے اختيار کرنے سے انسان کي ساري پريشانياں دور ہو جائيں - ويليم جيمز کے مطابق انسان کي پريشانيوں کي مؤثر ترين دوا دين ہے -

 تحرير : سيد اسداللہ ارسلان