• صارفین کی تعداد :
  • 1544
  • 3/3/2012
  • تاريخ :

انسان کي زندگي ميں مذھب کي ضرورت ( حصّہ چہارم )

بسم الله الرحمن الرحیم

روح کي ضرورت

دين انسان کي روح کي ضرورت ہے اور انساني زندگي ميں آرام و اطمينان کا بنيادي جزو ہے - ايک ايسي حقيقت ہے جو زندگي کے راستوں کا تعين کرتي ہے  - عقيدہ اور ايمان ايک ايسا رابطہ ہے جو شخصيت کے تمام اراکين کو آپس ميں جوڑتا ہے اور وجود کو ايک وحدت کا تصور بخشتا ہے جو انسان کو اپنے رب کي طرف ہدايت کرتا ہے -

  روح کے بارے ميں تحقيقات کرنے والوں ميں سے بعض کا خيال ہے کہ انسان کي سرشت اور ذات کو ايک اعتقادي نظام کي ضرورت ہوتي ہے اور اسے  وہ متعلقہ شخص کي زندگي کا  حصّہ تصور کرتے ہيں - اس سے دوري انسان کو روحي و رواني بيماريوں کا شکار کر ديتي ہے - کچھ لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ وہ صرف روٹي کھا کر جي رہے ہيں جبکہ حقيقت ميں روح کو زندہ رکھنے کے ليۓ روٹي اور غذا سے بھي اعلي چيزوں کي ضرورت ہوتي ہے اور وہ  اعلي ضرورت مذھب ہے -

اريک فروم کے بيان کے مطابق دنيا ميں کوئي بھي ايسا شخص نہيں ہے جسے  دين کي ضرورت نہ ہو  اور کسي بھي موضوع کي تلاش ميں اپنے اطمينان کے ليۓ حدود کي تلاش ميں نہ ہو - شايد وہ بذات خود  کسي غير ديني اعتقادات کا قائل ہو يا پھر يہ بھي ممکن ہے کہ  اس کا کوئي بھي دين نہ ہو اور اپنے اطمينان قلب کے ليۓ  غير ديني ظاہري مقاصد مثلا طاقت ، شہرت ، روپيہ پيسہ  وغيرہ  کے ليۓ جدوجہد کرکے کاميابي حاصل کرنے کي کوشش ميں مصروف ہو - مسئلہ اس بات کا نہيں ہے کہ انسان کا کوئي دين ہے يا نہيں بلکہ مسئلہ يہ ہے کہ کونسے سے دين کا وہ پيروکار ہے -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان